چار روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ 5دسمبر کو کریں گے

45

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی صدر محمد احمد شاہ نے کے 12ویں چار روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ۵ دسمبر کو کریں گے۔ اس اس کی کانفرنس میں انفرادیت یہ ہے کہ پاکستان کی علاقائی زبانوں، سندھی، بلوچی، پشتو اور پنجابی کو بھی شامل کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اردو کے زیادہ سیشن رکھے گئے ہیں،

غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی کی مناسبت سے پروگرام اور جشن فہمیدہ ریاض، علاوہ اس سال ممتاز شخصیات کے ساتھ سیشن بھی منعقد ہو نگے جس میں شبنم سمیت ضیاء محی الدین، سمیت اردو ادب کی ممتاز شخصیات اور معروف صحافی شامل ہیں،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انہوں نے منگل کو آرٹس کونسل کی احمد شاہ بلڈنگ میں حسینہ معین،نورالہدا شاہ، قدسیہ اکبر عبنر حسیب عنبرین اور گورنگ باڈی کے دیگر ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے تقریباً دوسو فلسفی، محقق، ادیب، شاعر شرکت کریں گے رضا علی عابدی، اور شمیم حنفی پاکستان پہنچ چکے جب کہ دیگر خواتین و حضرات کی آمد کا سلسلہ کل سے شروع ہو جائے گا۔ کانفرنس میں شامل ہونے والوں کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہو گا جس میں ہندوستان، امریکہ، چائنہ، جرمنی اور برطانیہ سر فہرست ہیں،

انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ گیارہ برسوں سے مسلسل یہ دنیا کی سب سے بڑی اْردو کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں جب کہ ہر سال اس میں ترقی ہو رہی ہے اب یہ دنیا کہ ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں برانڈ بن چکی ہے،

ادب، ثقافت، موسیقی، شاعری، ڈرامہ، فلم، تعلیم، زبانوں، رقص، مصوری، اور صحافت پر گفتگو کے علاوہ غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی، فیض احمد فیض، جشن فہمیدہ ریاض پر اجلاس، شبنم کی باتیں اور انور مقصود دلچسپ گفتگو کریں گے،

انہوں نے کہاکہ اس مرتبہ ہم نے بلوچی، پختون، سرائیکی،پنجابی اور سندھی ادب کے ساتھ ساتھ کشمیر اور خطے میں امن کی صورتحال پر بھی اجلاس کا اضافہ کیا ہے۔ فوڈ فیسٹیول کانفرنس کی شان ہوگا جس میں مزیدار کھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس گیارہ سال قبل شروع کی تھی اور تب سے اب تک یہ کامیابی سے جاری ہے،

آج پوری دنیا عالمی اْردو کانفرنس کی بین الاقوامی حیثیت کو تسلیم کرتی ہے۔ ہم نے مصوروں، شاعروں، ادیبوں اور ادب اور فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے آرٹس کونسل میں مواقع پیدا کیے اور آج آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ان تمام سرگرمیوں کا مرکز ہے،

انہوں نے کہا کہ ان کانفرنس میں موسیقی کی محفلوں، اور پروگرامز کی مدد سے ہم اپنی تہذیب و ثقافت کو محفوظ کر رہے ہیں یہ کانفرنس اس کا ثبوت ہیں۔

احمد شاہ نے کہا کہ کراچی میں علمی، ادبی، تہذیبی و ثقافتی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں، کانفرنس میں ہندوستان سے شمیم حنفی کے علاوہ آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان لندن سے رضا علی عابدی، زہرا نگاہ، اسد محمد خان، ضیا محی الدین، امر جلیل، چین سے ٹینگ مینگ شینگ، جاپان سے ہیروجی کتاوکا، کشور ناہید، افتخار عارف، پیرزادہ قاسم، زاہدہ حنا، جرمنی سے عارف نقوی،اباسین یوسفزئی،مستنصر حسین تارڑ،

انورمسعود، محمد حنیف،امرجلیل کے علاوہ نعیم بخاری، حامد میر، وسیم بادامی، اویس توحید، وسعت اللہ خان، منور سعید، خالد انعم، حنا دلپذیر، ہمایوں سعید، شیما کرمانی، کیف غزنوی کے علاوہ مشہور و معروف شخصیات شرکت کریں گی۔