موسمیاتی تبدیلیوں پر بین الاقوامی کانفرنس شروع

45
میڈرڈ: عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے شرکا گروپ فوٹو بنوا رہے ہیں‘ چھوٹی تصویر گوتیریس کے خطاب کی ہے

میڈرڈ (انٹرنیشنل ڈیسک) موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں شروع ہوگئی۔ کانفرنس کا افتتاح پیر کے روز ہوا۔ کانفرنس میں 196 ممالک شریک ہو رہے ہیں۔ افتتاح سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے عالمی حرارت کے تباہ کن اثرات سے خبردار کیا، جو انسانیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عالمی بحران ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ گوتیریس کا کہنا تھا کہ انسان کئی دہائیوں سے کرہ ارض کے خلاف جنگ کی حالت میں ہے اور اب اس سیارے نے انسان کے خلاف لڑائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بڑے اقتصادی ممالک کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج پر پابندی لگانے کے لیے کی جانے والی ناکافی کوششوں پر سخت نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عالمی ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے اور اس حوالے سے ناقابل واپسی کا مقام زیادہ دور نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے سامنے ہے اور تیزی سے ہماری جانب بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب ایک عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کے باعث ایک دہائی میں 2کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ یہ انکشاف ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جو عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے آغاز پر جاری کی گئی۔ اوکسفیم نے پیر کے روز جاری کردہ اپنی اس رپورٹ میں انکشاف کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جگہ جگہ لگنے والی جنگلاتی آگ، سمندری طوفانوں، سیلاب و دیگر شدید موسمی حالات کی وجہ سے پچھلے 10 برسوں میں 2کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ تنظیم کے مطابق گو کہ ان قدرتی آفات کے متاثرین وقتی طور پر یا عارضی بنیادوں پر بے گھر ہوئے، تاہم اتنی بڑی تعداد محققین کے لیے حیرت اور پریشانی کی بات ہے۔