اردن آتشزدگی میں 13 پاکستانی جاں بحق

56
اردن: کھیتوں کے درمیان آتشزدگی کا شکار ہونے والی رہایش گاہیں جل کر خاکستر ہوگئی ہیں

عمان (انٹرنیشنل ڈیسک) اردن کے ایک فارم ہاؤس میں آتش زدگی سے 13پاکستانی جاں بحق ہوگئے۔ اردن کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا کہ پیر کے روز وادیٔ اردن کے علاقے غور کے ایک فارم ہاؤس میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 8 بچوں سمیت 13 پاکستانی جل کر جاں بحق ہوگئے۔ باقی افراد میں 4عورتیں اور ایک مرد شامل ہے۔ آتشزدگی میں ہلاک ہونے والے خاندانوں کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع دادو سے ہے، جو 1970ء سے وہاں مقیم ہیں۔ خاندان کے سربراہ علی شیر جوئیا محفوظ رہے۔ مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ اس عارضی رہایشی علاقے میں آگ نصف شب کے وقت بھڑکی۔ شہری دفاع کے ترجمان ایاد العمری نے بتایا کہ ہلاکتوں کے علاوہ آگ سے جھلس کر 3 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ لگنے کا سبب شارٹ سرکٹ بتایا جاتا ہے۔ وادی اردن میں پھل اور سبزیوں کے کھیتوں میں قائم عارضی رہایش گاہوں میں ہزاروں مزدور دگرگوں حالات میں رہتے ہیں۔ محکمہ شہری دفاع ہی کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ 2 خاندان کھیتوں کے درمیان ٹین کی چھتوں والی عارضی رہایش گاہوں میں رہتے تھے۔ یہ رہایش گاہیں تارکین وطن مزدوروں کے سر چھپانے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ پولیس نے آگ لگنے کے اسباب کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ آتشزدگی کا شکار بننے والے 3زخمیوں کو علاج کی خاطر اسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ جب کہ جلی ہوئی لاشیں بھی امدادی کارکنوں نے اسپتال منتقل کر دی ہیں۔ آگ وادی اردن کے ایک گاؤں شعاع جنوبیہ میں لگی۔ یہ گاؤں دریائے یرموک اور دریائے اردن کے سنگم کے قریب واقع ہے۔ وادی اردن ایک زرخیز زرعی علاقہ ہے، جہاں ہزاروں غیر ملکی تارکین وطن روزگار کے حصول کے لیے انتہائی نامساعد حالات میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ دن بھر وہ کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور رات گزارنے کے لیے ان کے پاس مستقل اور مناسب رہایش نہیں۔ وہ عارضی بند وبست کر کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران اردن میں مقیم شامی مہاجرین کے خیموں میں موسم سرما کے دوران آگ لگنے کے کئی واقعات میں کئی افراد جل کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ان خیموں میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگتی ہے یا پھر گیس سے چلنے والے گھریلو اسٹوو سے پیدا ہونے والی گیس سے کئی مہاجرین دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔