شام میں بازار پر بمباری 15 شہری شہید

43
معرۃ النعمان (شام): روسی اور اسدی طیاروں کی بم باری سے تباہ ہونے والے بازار میں لاشیں اٹھائی جارہی ہیں

دمشق/ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں مزاحمت کاروں کے زیرانتظام شمال مغربی صوبے ادلب میں روس اور بشار الاسد کی افواج کے فضائی حملوں میں 15شہری جاں بحق ہوگئے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق اور دیگر ذرائع کے مطابق جنگی طیاروں نے پیر کی صبح ادلب کے شہر معرۃ النعمان میں بازار کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 2 خواتین سمیت 15 شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں، جب کہ 18 کی حالت تشویش ناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ رضاکاروں پر مشتمل شامی شہری دفاع کی تنظیم ’’وائٹ ہیلمٹ‘‘ نے بتایا کہ بمباری کے وقت بازار شہریوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا، اسی لیے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ تنظیم نے اپنے طبّی عملے کی تصاویر بھی پوسٹ کیں، جو تباہ شدہ بازار میں ملبے سے لاشیں نکال رہے تھے۔ ان میں خون میں لت پت ایک شخص کی سربریدہ لاش بھی تھی۔ دوسری جانب ادلب ہی میں مرکزی جیل پر بم باری میں ایک خاتون اپنے 2 بچوں سمیت شہید ہوگئی۔ وہ جیل میں قید اپنے عزیز سے ملنے آئی تھی۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ شام میں اسد حکومت کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر کے جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی۔ یہ بات بین الاقوامی سطح پر کیمیائی جنگ کا شکار ہونے والے افراد کی یاد میں جاری ایک بیان میں کہی گئی۔ بیان کے مطابق کیمیائی مواد کا بطور ہتھیار استعمال ہماری جدید تاریخ میں خوف ناک ہلاکتوں اور زخمی حالتوں کا سبب بن رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال پر مکمل پابندی کی تائید کرتا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے پر پوری طرح عمل پر زور دیتا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے لیے کام کرنے والی تنظیم او پی سی ڈبلیو کی حمایت کرتا ہے۔