اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 2 ہفتوں میں 39 فلسطینی املاک مسمار

41
الخلیل: قابض صہیونی انتظامیہ کی جانب سے یہودی کالونی میں تبدیل کیے جانے کے اعلان پر فلسطینیوں کا قدیم بازار بند پڑا ہوا ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے اقوام متحدہ کے مرکز اوچا کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی 39 املاک مسمارکی گئیں یا ان پر قبضہ کرکے فلسطینیوں سے چھین لیا گیا۔ ان میں زیادہ تراملاک غرب اُردن کے علاقوں میں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 12 سے 25 نومبر کے درمیان اسرائیلی فوج نے ہاتھوں مسماری کی کارروائیوں کے نتیجے میں 63 فلسطینی بے گھر ہوئے جب کہ 380 متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق مسمار کی گئی یا قبضے میں لی جانے والی املاک میں 35 اوسلو معاہدے کے تحت غرب اُردن کے سیکٹر سی میں موجود ہیں۔ واضح رہے فلسطین میں یہودی آباد کاری اور صہیونی قبضے میں توسیع پسندی کے ساتھ فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کا ظالمانہ سلسلہ بھی بدستور جاری ہے، جس کی امریکا کی جانب سے کھل کر حمایت کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں یہودی شرپسندوں کے ایک گروہ نے اسرائیلی پارلیمان کے منتخب عرب رکن احمد طیبی پر قاتلانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ معمولی زخمی ہوگئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق احمد طیبی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں بتایا کہ وہ تل ابیب کے قریب رامات ہشارون شہر میں گزشتہ روز ایک ثقافتی فورم میں شرکت کے لیے پہنچے تو وہاں پر موجود یہودی شرپسندوں نے ان پرلاٹھیوں سے حملہ کردیا، جس کے بعد وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔