عدالت سے پہلے عدالت کا سلسلہ کب تک؟

67

خبر ہے کہ ’’ایم کیو ایم لندن سے وابستہ ٹارگٹ کلر یوسف ٹھیلے والے کے متنازع وڈیو بیان پر وزیراعلیٰ سندھ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ایس ایچ او سولجر بازار جاوید سکندر اور انچارج اینٹی اسٹریٹ کرائم سیل عمران گجر کو معطل کر دیا گیا ہے، ملزم کی گرفتاری سولجر بازار پولیس اور اینٹی اسٹریٹ کرائم سیل نے ظاہر کی تھی‘‘۔ اس سے قبل ایم کیو ایم کا ایک اور ٹارگٹ کلر گرفتار کیا گیا تھا جس کے متعلق خبر یہ تھی وہ عباسی شہید اسپتال کا ایک ہیلپر تھا اور اس نے 111 قتل کیے تھے۔ مجھے اس سے کبھی کوئی غرض نہیں رہی کہ حالیہ گرفتار شدہ ٹاگٹ کلر نے 96 قتل کیے ہیں یا اس سے چند دن پہلے گرفتار شدہ قاتل نے 111 قتل کیے ہیں میرے لیے توجہ طلب بات یہ ہے کہ ان ٹارگٹ کلرز کو کب عدالتوں میں پیش کیا جائے گا، ان کی آدم خوری پر عدالت کب ان کو سزا سنائے گی، ایک قاتل کی بوٹیاں اور دوسرے کا قیمہ کب بنایا جائے گا اور فضا میں اچھال اچھال کر ان کی بوٹیاں چیل کوؤں کو کب کھلائی جائیں گی کیونکہ ایسے سفاک قاتل جو انسانی جان لینا گڈے گڑیوں کا کھیل سمجھتے ہوں اور کسی انسان کو ماردینا ان کے نزدیک کیڑے مکوڑے کو ماردینے سے بھی زیادہ آسان ہو، ان کو صرف موت کی سزا سنادینا کسی بھی لحاظ سے ان کے جرم کے برابر ہو ہی نہیں سکتی۔ 1992 سے لیکر آج تک سیکڑوں ٹاگٹ کلروں کے پکڑے جانے کی خبریں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر نہ صرف نشر کی جاچکی ہیں، ان کے ویڈیو بیانات اور آڈیو ریکارڈ ریڈیو اور ٹی وی پر نشر کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس کے بعد آج تک یہ پتا نہیں چل سکا کہ ان کو باقائدہ عدالتوں میں پیش بھی کیا گیا اور ان کو ان کے جرم کے مطابق سزا بھی دی گئی یا نہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں صرف سرکاری ٹی وی ہی ہوا کرتا تھا۔ نصیر اللہ بابر کے زمانے میں ایسے لاتعداد ٹاگٹ کلرز کو ٹی وی پر بٹھا کر ان کے اقراری بیانات سنائے جاتے رہے اور ان میں کچھ وہ بھی تھے جو قتل کی ڈبل اور ٹریپل سنچریاں تک مکمل کر چکے تھے لیکن اس کے بعد آج تک یہ پتا نہ چل سکا کہ ایسے بھیڑیوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔ اس دور میں صرف سرکاری ٹی وی ہی نہیں ہے جس سے اپنی مرضی و منشا کے مطابق ہی خبر نشر کی جاتی سکتی تھی، اب الیکٹرونک میڈیا کے بیسیوں آزاد چینلز بھی ہیں۔ جس سفاک قاتل کو کل 96 افراد کا قاتل بنا کر دکھایا گیا، ایک آزاد چینل نے اس کی پوری ہسٹری بھی چلائی جس میں بتایا گیا کہ یہ کن کن ہاتھوں کا کھلونا بنا رہا اور کتنی بار مختلف روپ میں عوام کے سامنے پیش کیا جاتا رہا۔ حد تو یہ ہے کہ یہ مار بھی دیا گیا تھا جس کی تصدیق اس کے لواحقین تک سے کرادی گئی تھی۔ آزاد چینل کی اس نشر ہونے والی خبر نے کسی حد تک اس خبر کو متنازع بنادیا ہے کیونکہ اگر ایک شخص کبھی کسی ایجنسی کی خبر کی زینت بنا ہو اور کبھی کسی اور ایجنسی کی اور اس کے متعلق یہ خبر بھی ہو کہ وہ ماربھی دیا گیا تھا مگر پھر بھی زندہ ہے تو پھر کسی بھی خبر کا مصدقہ ہونا کوئی انہونی بات نہیں ہو سکتی۔
یہاں جو سوال قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کیا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ جس شخص نے قتل کی سنچریاں بنا رکھی ہوں کیا اس کے خلاف بھی ثبوت فراہم کرنا قانون نافذ کرنے والوں کے لیے دشوار طلب بات ہے۔ ایک آدھ قتل کو تو چھپایا جاسکتا ہے لیکن مچھر مکھیوں کی طرح انسانوں کو مارنے والا اپنے کس کس جرم کو چھپا سکتا ہے۔ پھر یہ کہ جب مجرم اپنے جرم کا اقراری ہے تو وہ کون سی رکاوٹ اس امر میں مانع ہے کہ اسے عدالت میں پیش نہ کیا جاسکے۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ بچانوے یا 110 قتل ہونے تک قانون نافذ کرنے والی کسی بھی ایجنسی کے علم میں یہ بات کیوں نہیں آپا تی کہ کیڑے مکوڑوں کی طرح انسانوں کو مارنے والا آخر کون ہے؟۔ کیا یہ ایک نہایت مجرمانہ غفلت نہیں کہ کسی نہ کسی تھانے کی حدود میں لاشوں پر لاشیں گرائی جارہی ہوں اور قاتل نہایت پرسکون انداز میں عباسی شہید اسپتال میں اپنے فرائض بھی ادا کر رہا ہو اور ٹھیلہ بھی لگا رہا ہو؟۔ ایسی غافل اور سفاکانہ غفلت کے شکار اہل کاروں اور ذمے داروں کے خلاف کیا کبھی قانون حرکت میں نہیں آئے گا؟۔
اسی خبر میں یہ بات بہت تعجب خیز ہے کہ ویڈیو بیان میں قاتل نے سندھ کے موجودہ وزیر اعلیٰ پر بھی باقائدہ نام لے کر سنگین الزامات لگائے ہیں جس پر مراد علی شاہ نے گرفتار دہشت گرد یوسف ٹھیلے والے کے الزامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے اسٹوری بنائی ہے ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں، 2 دن میں رپورٹ آجائے گی، یہ سب کچھ ایک دہشت گرد سے کہلوایا گیا کہ انہوں نے اس سے ملاقات کی، میں کبھی اس سے نہیں ملا۔ لگتا ہے متعلقہ ایس ایس پی ان کے خلاف سازش میں ملوث ہے۔ میں مراد علی شاہ کے کسی بھی شک کے اظہار کو رد نہیں کروںگا کیونکہ ایسا ممکنات میں سے ہے اور کسی بھی مصیبت میں گھرے ہوئے فرد سے اور خاص طور سے ایسے ملزم سے جس کی سزا موت کے سوا اور ہو ہی نہ سکتی ہو، اس سے اس کی جان کے تحفظ کے یقین پر کچھ بھی اگلوایا یا کہلوایا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا ماضی اسی قسم کی ان گنت کارروائیوں سے بھرا پڑا ہے۔ جس کی محافظت میں آنے والے جیل سے باہر نکال کر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے جاتے ہوں وہاں کسی کی دم نمدہ کس دینے والی کارروائی کوئی ایسی بات نہیں جس پر حیرانی ہو اس لیے مراد علی شاہ نے جس خدشے کا اظہار کیا ہے وہ غلط بھی نہیں ہو سکتا۔ یہاں اگر غور طلب بات ہے تو وہ یہ ہے کہ مراد علی صاحب نے صرف اس بات کو کیوں جھوٹ اور غلط جانا جس میں ان کے ملوث ہونے کا بیان ہے؟۔ ایک مجرم جو قانون کی حراست میں ہے اور بقول ان کے، جبر کے سامنے ہاتھی بھی خود کو ’’میں ہرن ہوں میں ہرن ہوں‘‘ کہہ سکتا ہے تو آخر انہوں نے باقی بیان کو کیوں سچ مان لیا۔ اگر ایک ملزم ان کے متعلق جھوٹ گھڑ سکتا ہے تو پھر وہ اپنے متعلق بھی جھوٹ بولنے پر کیونکر مجبور نہیں کیا جاسکتا؟۔
اگر 1992 سے تاحال اس قسم کے ہر سنگین جرم کے ارتکاب کرنے والے مجرم کو صرف اپنی مقصد براری کے لیے استعمال نہ کیا جا رہا ہوتا اور ہر گرفتار شدہ کو عدالتوں کے روبرو پیش کرکے اسے قرارِ واقعی سزا دلوائی جا رہی ہوتی تو پاکستان میں یا تو جرائم ختم ہو جاتے یا مجرموں سے کام نکالنے والوں کے سارے سوراخ بند ہو چکے ہوتے۔ اس قسم کے کسی بھی سنگین جرم کے الزامات میں پکڑے جانے والے مجرم کا ہمیشہ اپنے انجام تک نہ پہنچنے کا نتیجہ ہے کہ پاکستان بھر میں قتل کوئی ایسا جرم ہی شمار نہیں ہو رہا جس کو ایک انتہائی گھناؤنا جرم سمجھا جائے۔ خاندانی دشمنیوں میں درجنوں کا مارا جانا، قبائل کا ایک دوسرے کے خلاف اعلان جنگ کر دینا، بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد موت کی نیند سلادینا، کاروکاری کا الزام لگا کر کسی کو بھی جلادینا، سیاسی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھا دینا اور مذاق مذاق میں ایک دوسرے کی جان لے لینا گویا ایک کھیل تماشا ہے۔
ایک دو قتل کی اور بات ہے جس کے محرکات کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن درجنوں یا بیسیوں نہیں، ڈبل اور ٹریپل سنچریوں کا معاملہ اتنا سہل نہیں جس کے متعلق یہ سوچ لیا جائے کہ یہ صرف سیاست ہی کا شاخسانہ ہے۔ میں نے تو صرف کچرا ہی کچرا کنڈی کے باہر پھینکا تھا کہ گرفتاری عمل میں آگئی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی کو ماروں، اس کی لاش ڈھوؤں، اسے بوری میں بند بھی کروں، کچرا کنڈیوں یا ویران علاقوں میں پھینک کر بھی آؤں اور میرا سراغ بھی کسی کو نہ مل سکے۔ ایسا کام بغیر قانونی ’’تعاون‘‘ کے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ لہٰذا میری عدالتوں سے درخواست ہے وہ ان سارے معاملات میں از خود مداخلت کریں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جب عدالتی تحقیقاتی ٹیم اپنی جے آئی ٹی بنائے گی تو ایسی سنگین کارروائیوں میں ’’قانون‘‘ مرکزی کردار ادا کرتا ہوا ضرور نظر آئے گا۔ ان کا ملوث ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ آج تک عدالتوں میں نہ تو کسی کو پیش کیا گیا اور نہ ہی پیش کیے جانے والے مجرم کے لیے اتنے ثبوت فراہم کیے گئے کہ عدالت اسے سزا سنا سکے۔ میں مراد علی شاہ سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ صرف اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی ہی تحقیق نہ کروائیں، پورے معاملے کو دیکھیں تاکہ عوام کے سامنے مجرم کی اصل شکل سامنے آ سکے۔