عدلیہ، حقائق برعکس ہیں

80

عدالت عظمیٰ کے سربراہ جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ نے کہا ہے کہ جج روزانہ مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں اور انہیں پہلے پانچ منٹ میں ہی پتا چل جاتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ انتہائی سینئر جج ہونے کے ساتھ ساتھ عدالت عظمیٰ کے سربراہ بھی ہیں ، اس لیے ان کی اس آبزرویشن سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسا ہی ہوتا ہوگا مگر ان حقائق کا کیا کیا جائے جو محترم چیف جسٹس کی آبزرویشن کے قطعی برعکس ہیں ۔ کئی کئی عشروں سے مقدمات عدلیہ میں فیصلوں کے منتظر ہیں اور وہاں پر صرف تاریخ ملتی ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ مدعی انصاف کے انتظار میں جان سے گزرجاتاہے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے جج پاکستان میں کہاں پر ملتے ہیں جو مقدمے کے پہلے پانچ منٹ میں ہی یہ سمجھ جاتے ہیں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط اور روز کی بنیاد پر فیصلے بھی ہورہے ہیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماتحت عدالتوں کے اکثر فیصلے اعلیٰ عدلیہ میں جا کر یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ اس کے معنی یہی ہیں کہ یا تو ماتحت عدلیہ غلط ہے یا پھر اعلیٰ عدلیہ ۔ سنیچر ہی کو سیالکوٹ کی عدالت کے باہر ایک مقتول کی ماں نے ایک ملزم کو قتل کردیا ۔ اس ملزم کو ماتحت عدالت نے قتل کے جرم میں سزا دی تھی جبکہ ہائی کورٹ نے شک کی بنیاد پر بری کردیا تھا ۔ مقتول کی ماں کو علم تھا کہ اسی ملزم نے اس کے بیٹے کو قتل کیا ہے اور اس نے ہائی کورٹ کی جانب سے ملزم کو بری کرنے پر قانون خود اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عام شخص عدالتی فیصلوں سے کس حد تک اور کتنا مطمئن ہے ۔ عدلیہ کا سربراہ ہو نے کے ناتے جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی نظام کا رمیں مثبت تبدیلی لائیں ۔ یقینا اس امر کا انہیں بھی احساس ہوگا انصاف میں تاخیر انصاف کے قتل کے مترادف ہے ۔ اگر جسٹس کھوسہ صاحب کے خیالات حقیقت کا روپ دھار جائیں تو یہ پاکستان کی بڑی خدمت ہوگی ۔