سرجانی ٹائون،پولیس چاردیواری کی تعمیر کیلئے لاکھوں روپے رشوت مانگنے لگی

33

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )سرجانی پولیس اسٹیشن سادہ اور شریف لوگوں کو تنگ کرنے لگی، پیسے بٹورنے اور مال بنانے کے بہانے ڈھونڈنے لگی۔ایک طرف سرجانی ٹائون میں پولیس کی سرپرستی میں زمینوں پر قبضے جاری ہیں جبکہ دوسری طرف سرجانی ٹاؤن میں غیر قانونی زمینوں کا جواز بنا کر قانونی اور جائز زمینوں سے پیسے بٹورنے میں لگی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سرجانی ٹاؤن پولیس اسٹیشن کی حدود میں ناکلاس اراضی پر لینڈ مافیا قابض ہے اور پلاٹنگ کا کام جاری ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے لیکن دوسری جانب پولیس قانونی زمینوں پرکام روکنے کے لیے مختلف بہانے کرنے لگی ہے۔سرجانی ٹاؤن میں واقع خیر پور گوٹھ میں ناکلاس 30 دیہہ ناگن،ٹپو منگھوپیر جوکہ 20 ایکڑ زمین خالد صدیقی ولد محمد یوسف کی ملکیت ہے اور مختار کار منگھوپیر کی جانب سے لیٹر نمبر /KW/247/2019 .M۔MUKH جاری کیا گیا ، جس میں 20 ایکڑ زمین پر چار دیواری کی اجازت دی گئی ہے اس سے قبل معزز عدالت عالیہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ایس ایچ او سرجانی کو حکم نامہ جاری کیا گیا کہ 20 ایکڑ زمین پر چار دیواری کی اجازت دی گئی ہے اور پولیس کو پابند کیا گیا کہ سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔لیکن سرجانی پولیس کی جانب سے ہائی کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا اور روزانہ کی بنیاد پر اس چار دیواری کی تعمیر کے لیے لاکھوں روپے رشوت کی ڈیمانڈ کی جانے لگی ہے اور پیسے نہ دینے پر کام بند کرنے کا کہا جارہا ہے۔سرجانی پولیس اسٹیشن کے اہلکار اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔مذکورہ زمین پر اتوار کے روزخود کو ایڈیشنل ایس ایچ او کہنے وا لے نے کال کرکے کہا کہ ڈی آئی جی صاحب کی کال آئی ہے کہ اس کام کو بند کردیا جائے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ چھٹی کے دن ڈی آئی جی کال کر رہے ہیں یا پیسے بٹورنے کے لیے ڈی آئی جی کا نام استعمال کیا جارہا ہے۔اس زمین کے مالکان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس تمام ڈاکیومنٹس موجود ہیں زمین ہمارے نام پر لیز ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ شہریوں کو بلا وجہ تنگ کرنے اور رشوت رسانی پر متعلقہ تھانے دار اور اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو محکمہ پولیس کی جانب سے تحفظ کا احساس ہوسکے۔