حکومت سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلائے اور مسئلہ کشمیر پر مشترکہ روڈ میپ طے کیا جائے، سراج الحق

68

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کہ حکومت جلد از جلد سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلائے اور قومی قیادت کی وسیع تر مشاورت کے بعد ایک روڈ میپ طے کیا جائے

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر حکمرانوں کے غیر سنجیدہ رویے پر پوری قوم حیران اور پریشان ہے،معمولی مسائل پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا جاتا ہے مگر مسئلہ کشمیر جو پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے،کشمیر کی آزادی کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر سنجیدگی سے ایک لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔

امیر جماعت اسلامی نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد از جلد سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلائے اور قومی قیادت کی وسیع تر مشاورت کے بعد ایک روڈ میپ طے کیا جائے،22دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والا کشمیر مارچ حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگائے گا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے مسئلہ پر پوری قوم متحد ہے اور حکمرانوں سے مطالبہ کررہی ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری کوئی عملی قدم اٹھایا اور کشمیریوں کو بھارت کے ظلم و جبر سے بچایا جائے مگر حکمران باتوں و عدوں اور دعوؤں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں،بھارت نے 5اگست کے اقدام سے اڑھائی سو سال سے دنیا کے نقشے پر موجود کشمیر کا نام ختم کرکے اسے بھارتی ریاست قرار دے دیا اور اسے ہڑپ کر گیا مگر ہمارے حکمران اب بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں 27اگست کی تقریر کے بعد حکمرانوں سے امید کی جاررہی تھی کہ وہ قوم کو جہاد کے لیے تیار کریں گے اور کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی واضح اور ٹھوس قدم اٹھائیں گے مگر حکمران لمبی تان کر سوگئے،کشمیری مائیں بہنیں بیٹیاں 120دنوں سے چیخ و پکار کرکے حکمرانوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں،بزرگ راہنما سید علی گیلانی نے وزیر اعظم کو آخری خط بھی لکھ دیا مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مودی کے 5اگست کے اقدام کے بعد کشمیر نے عالمی توجہ حاصل کی اور یہ مسئلہ ایشیا ء سے نکل کر ایک عالمی مسئلہ بن گیا، دنیا بھر میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بڑے بڑے اجتماعی مظاہرے ہوئے اور پوری دنیا نے بھارت کے ظلم و جبر اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کی مذمت کی،لوہا گرم تھا مگر ہمارے حکمران فائدہ اٹھانے کی بجائے چپ ساد ھ کر بیٹھ گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جس طرح اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کشمیریوں کا سفیر بننے کے عزم کا اظہار کیا تھا اس سے پوری قوم اور خصوصاً کشمیریوں میں ایک اطمینان کی لہر دوڑ گئی تھی مگر حکمرانوں کی مسلسل خاموشی نے وہ سارے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں اور دنیا کی توجہ بھی دوسرے مسائل کی طرف ہوگئی ہے۔