سی پیک، غزل اور جواب آں غزل

120

یہ حقیقت ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی اور خوش گوار تعلقات کی خاطر ہونے والی سرگرمیاں پاک امریکا تعلقات کے چیچک زدہ خدوخال کی پلاسٹک سرجری کی ایک کوشش ہے۔ پلاسٹک سرجری بھی نہیں اسے فقط سادہ میک اَپ کہا جائے تو اچھا ہوگا۔ پلاسٹک سرجری میں معاملے کی نوعیت کی بدل جاتی ہے مگر میک اَپ حقیقت کو چھپانے اور آئینے کی آنکھ کو دھوکا دینے کی ایک عارضی سی کوشش ہوتی ہے۔ حالات اور وقت کی پہلی برسات کی پہلی پھوار ہی اس سب کو دھوڈالتی ہے۔ تعلقات کی اس ملمع کاری کا پہلا ثبوت اس وقت ملا جب امریکا کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز بہت کھل کر پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بول پڑیں بلکہ انہوں نے اس طویل المیعاد منصوبے کے مقابل معاشی ترقی کے حوالے پاکستان کے لیے امریکا کے ایک متبادل ماڈل کا اشارہ بھی دیا۔ گویا امریکا ابھی تک یہ سوچ ذہنوں میں بسائے بیٹھا ہے کہ اگر پاکستان سی پیک منصوبے کو ترک کردے تو پاکستان اسے معاشی طور پر سہارا دینے کے لیے اپنی پرائیویٹ کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے آگے بڑھائے۔ امریکی عہدیدار کی زبان سے یہ آدھی بات ہی ادا ہوئی ہے۔ سرد جنگ کے بعد سے امریکا کے پاس پاکستان کے لیے جو ماڈل موجود ہے اس میں پاکستان کے بجائے بھارت کو مرکزیت حاصل ہے۔ امریکا ایشیا کی سیاست میں ایسا پاکستان چاہتا ہے جو بھارت کی دُم کے ساتھ بندھا ہو اور چین کے مقابلے میں بھارت کے تابع مہمل کا کردار ادا کرتا رہے۔ پاکستان ترقی تو ضرورکرے مگر یہ خطے میں بھارت کا ضمیمہ اور طفیلی ہوکر۔
سردجنگ کے بعد کے تین عشرے امریکا اور پاکستان کے درمیان اسی کھینچا تانی کی نذر ہوئے۔ پاکستان کے لیے معاملہ چین اور امریکا میں سے کسی ایک کے چنائو کا ہو تو ایک بڑا حلقہ لمحہ بھر کو تذبذب کا شکار ہو سکتا ہے مگر جب بات چین اور بھارت میں کسی کو ترجیح بنانے کی ہو تو اس میں سوچنے اور سمجھنے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔ پاکستان کسی پنجابی فلم کی ہیروئن کی طرح ولن سے اپنا بازو چھڑ ارہا ہے تو امریکا اسے گھسیٹ کر کسی اور کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ ان تین دہائیوں میں پاکستان کے بہت سے عارضوں، مسائل اور مشکلات کا تعلق اسی کھینچا تانی اور زورا زوری سے ہے۔ ایک بار تو وزیر خارجہ مسز ہیلری کلنٹن اسلام آباد میں کھلے لفظوں میں بتا گئی تھیں کہ بھارت کے ساتھ دوستی اورتجارت کے باعث پاکستان کی معیشت راکٹ کی رفتار سے ترقی کرے گی۔ دوستی تعلق اور تجارت سے کون انکاری ہوسکتا ہے مگر اس دوستی میں برابری سے زیادہ برتری کا تاثر نمایاں اور مطلوب ہے۔ اسی لیے پاکستان ان کوششوں کا مزاحم ہے۔ اب بھی پاکستان اور امریکا نظریہ ضرورت کی راہوں کے راہی ہیں۔ امریکا کو قوی امید ہے کہ وہ افغانستان میں جس فتح کا متلاشی ہے وہ اسے پاکستان کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور پاکستان کو ایک موہوم امید ہے امریکا بدلے میں اسے کشمیر میں کسی ’’انعام ‘‘ سے نواز سکتا ہے۔
امریکا نے پاکستان کی اس اہمیت کا ادراک افغانستان میں پندرہ سولہ سال کے تلخ تجربے کے بعد کیا تھا۔ ڈیڑھ عشرے تک امریکا افغانستان میں پاکستان کو مسئلے کے حل کے بجائے مسئلہ سمجھ کر حکمت عملی اپنائے رہا۔ امریکا نے افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بھارت کو ایک بڑا اور سائڈ رول دیا۔ جس سے یہ مسئلہ اُلجھتا چلا گیا۔ اب بھی دونوں ملک بے شمار ملاقاتوں کے بعد اجنبی اور کھچے کھچے سے ہیں۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات ایشیا کے تزویراتی منصوبوں دو متضاد سمتوں میں بدستور جاری ہیں اور تازہ اشارے اس بات کا پتا دیتے ہیںکہ مصنوعی اقدامات اور میک اپ کے باوجود تعلقات کا پرنالہ اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے اچانک کھل کر سامنے آگئیں۔ پہلے امریکا پردوں کے پیچھے چھپ چھپ کر اپنا کردار ادا کرتا تھا اس بیان سے وہ خاصا کھل کر سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک جاری رہا تو پاکستان کو بہت نقصان ہوگا اس منصوبے سے صرف چین کو فائدہ ہوگا۔ پاکستان کو چین سے سخت سوالات کرنا ہوں گے۔ امریکا کے پاس پاکستان کی ترقی کے لیے متبادل ماڈل ہے۔ اسلام آباد میں چینی سفیر یائو جنگ نے امریکا کی اعلیٰ عہدیدار کے اس بیان پر براہ راست ردعمل جاری کیا اور اس حوالے سے کئی وضاحتیں کیں۔ جس کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفیر بھی بول پڑے اور انہوں نے ایلس ویلز کی باتوں کو امریکا کی پالیسی کہہ کر حمایت کی۔ یوں سی پیک پہلی بار امریکا کے درمیان غزل اور جواب آں غزل کی صورت میں سامنے آیا۔ چینی سفیر نے یہ سوال بھی پوچھا جب پاکستان توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کررہا تھا امریکا اس وقت کہاں تھا؟۔ بہت دلچسپ سوال ہے اور اس کا جواب بھی بہت طویل اور دلچسپ ہوسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ جب پاکستان توانائی کے بحران کے باعث اندھیروں میں ڈوب رہا تھا امریکا اس وقت پاکستان میں ’’ریمنڈ ڈیوس‘‘ بھیج رہا تھا اور امریکا کے زیر اثر افغانستان سے پاکستان کے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں خوش گوار ہوا کے بجائے لُو کے تھپیڑے چل رہے تھے جس کے باعث گوادر کی بندرگاہ بسنے اور بننے سے پہلے ہی ویران اور بھوت نگر بن رہی تھی۔
ایلس ویلز کا بیان جس روز سامنے آیا عین اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار اور افغان امور کی انچارج نینسی ایزوجیکس نے ایک تھنک ٹینک میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور امداد کو سراہتا ہے۔ بھارت اس وقت افغانستان میں تین بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سی پیک سے افغانستان میں بھارت کی موجودگی تک امریکا اپنے موقف پر قائم ہے۔ سی پیک کو پاکستان معاشی ترقی کا انجن اور گیم چینجر کہہ رہا ہے۔ افغانستان میں بھارت کی موجودگی کو اپنے گھیرائو سے تعبیر کرتا ہے۔ امریکا ان دونوں باتوں پر قائم ہے تو پھر سمجھ جانا چاہیے کہ بہتر تعلقات کی ڈور کا سرا ہاتھ میں آنا قطعی مشکل ہے۔ سی پیک میں امریکی اعتراض صرف چین سے پاکستان کی بہتر سودے بازی نہ کرنے تک محدود ہوتا تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ خود پاکستان کے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سی پیک کے معاملات کیا ہیں اور لین دین کی اصل کہانی کیا ہے؟ اس پر سوال پوچھنا بلکہ حکمت عملی کے سقم کو دور کرنا ہمارے روایتی تصورِ’’ قومی مفاد‘‘ کے خلاف نہیں اور نہ ہی سی پیک تقدیس ِ دوراں کی حامل کوئی خانقاہ اور روحانیت سے جڑا کوئی منصوبہ ہے مگر امریکا پاکستان کو بھارت کی جانب بھارت کی شرائط پر دھکیل کر اسے چین کے مزید قریب ہونے پر مجبور کرتا رہا ہے اور اس کھینچا تانی میں جائز سوال پوچھنا بھی حساسیت کے خول میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔