فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ نہ ملنے کیخلاف متاثرین سراپا احتجاج

75

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)کراچی کی فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ نہ ملنے کیخلاف متاثرین سراپا احتجاج بن گئے اور شارع فیصل پر اسکیم کے دفتر پہنچ کر مظاہرہ کیاگیا،

کراچی کے رہائشوں نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کی جانب سے رقم وصول کرنے کے باوجود پلاٹ نہ ملنے کیخلاف شارع فیصل پر احتجاج کیا۔مظاہرین ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے اپنی جمع پونجی ضائع ہونے کیخلاف سراپا احتجاج نظرآئے اور فوری طور پر رقم واپس کرنے کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا،

احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی میں خلل آیا تو پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں 13 ارب روپے کے فراڈ کا الزام ہے، جس میں 6 ہزار افراد نے پلاٹ کی ٓبْکنگ کروائی تھی،
ٓ
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل بھی کراچی میں فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم پرائیویٹ کے مرکزی دفتر کے باہر درجنوں افراد نے احتجاج بھی کیا تھا اور اپنی رقوم کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چار سال سے ان کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے اور انہیں پلاٹ دیے جارہے ہیں اور نہ رقم واپس کی جارہی ہے۔ احتجاج کے باوجود فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم پرائیویٹ کی انتظامیہ نے رقم کی واپسی کا ٹائم فریم دینے سے انکار کیا تھا،

دوسری جانب چیئرمین نیب نے گزشتہ روز عوام کی داد رسی کیلئے نوٹس لیکر فوری انکوائری کا حکم دیا تھا جبکہ عوام کی دولت سے کھیلنے والوں کی نشاندہی کی ہدایت کی گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو(نیب)نے کراچی میں فضائیہ کے نام سے ایک ہاؤسنگ اسکیم پرائیویٹ کمپنی کیخلاف تحقیقات شروع کردی ہیں،نیب اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ہاؤسنگ اسکیم پرائیویٹ کمپنی کو فضائیہ کا نام استعمال کرنے کی اجازت کس نے دی، اس ضمن میں ہاؤسنگ اسکیم کے بعض ذمہ داروں سے ابتدائی تحقیقات کی گئی ہیں اور بعض دستاویزات بھی حاصل کرلی ہیں۔

نیب کے مطابق فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم پرائیویٹ کمپنی کے متاثرین کی تعداد 6 ہزار سے زائد اور عوام کی جانب سے اسکیم میں 13ارب روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے‘ چیئرمین نیب نے جلد از جلد انکوائری مکمل کرنیکی ہدایت کی ہے۔

نیب کراچی کے ترجمان کے مطابق نیب نے فضائیہ پروجیکٹ متاثرین کی درخواست کے بعد دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق نیب کراچی جلد از جلد یہ انکوائری مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔