سندھ کابینہ کا اجلاس،ڈیفالٹر ،غیر فعال اور پلی بارگین کرنے والی فلور ملز کو گندم نہ دینے کا فیصلہ

51

گریڈ ایک سے چار تک کی بھرتی سیلیکشن کمیٹی ، گریڈ پانچ سے پندرہ تک کی بھرتی کے لیے آئی بی اے کراچی اور سکھر کے ذریعے ٹیسٹ لیا جائے گا ،

سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے  وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈیفالٹر ،غیر فعال اور پلی بارگین کرنے والی فلور ملز کو گندم کا کوٹہ نہیں دیا جائے گا ، تاہم جو ڈیفالٹرز اگلے 15 دن کے اندر ادائیگی کرتا ہے تو اسے گندم کا کوٹہ دیا جائے گا.جو ملز مالکان سندھ حکومت سے کوٹہ لیتے ہیں اور مل نہیں چلاتے ان پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے  سبسڈی کے پیسے بھی واپس لیے جائیں گے. مارکیٹ میں گندم کی بوری 5ہزار روپے کی ہے جو سندھ حکومت سبسڈی کے بعد 3ہزار  روپے میں دیتی ہے.انہوں نے کہا کہ 64 فلور ملز میں سے21 ملز نے نیب سے پلی بارگین کیں، ان فلور فلز نے 2 بلین روپے پلی بارگین میں واپس کیا ہے جس میں سندھ حکومت کو 200 ملین روپے ملے ہیں.

سعید غنی نے بتایا کہ کابینہ نے سندھ ہندو میرج رولز 2019 کی منظوری بھی دی ہے ،اب یہ کیسز فیملی کورٹ کے دائرے میں لائے جائیں گے. پاکستان ٹورازم ڈولپمنٹ کارپوریشن 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوگئی ہے لیکن ابھی تک پی ٹی ڈی سی کے اثاثے سندھ حکومت کے حوالے نہیں ہوئےجس پر وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر ثقافت، سیکریٹری ثقافت اور محکمہ خزانہ کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کردی ہے جو کہ آ ئندہ اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی،

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گریڈ ایک سے چار تک کی بھرتی سیلیکشن کمیٹی کے جب کہ گریڈ پانچ سے پندرہ تک کی بھرتی آئی بی اے کراچی اور سکھر کے ذریعے  ٹیسٹ لینے کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ گریڈ پندرہ سے اوپر کی بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ ہوں گی ۔تمام بھرتیاں مقامی سطح پر ہوں گی . گریڈ پانچ سے پندہ تک کی بھرتیوں کے لیے چیف سیکریٹری ،وزیر تونائی وزیر محنت اور مشیر قانون پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہےجو بھرتیوں کا طریقہ کار مرتب کرے گی۔

سعید غنی نے کہا کہ موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی وصولی پر سپریم کورٹ 2018 میں پابندی عائد کی تھی جس سے سندھ حکومت کو 6.2 ارب روپے کا نقصان ہوا ، تاہم اب 25 اپریل 2019 سے سندھ سیلز ٹیکس موبائل فونز سروس پر لاگو ہوگا، انہوں نے کہا کہ  سندھ اسمبلی نے کوسٹل ڈیوپلمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1994 میں ترمیم کا بل پاس کیا تھا  جس کے ذریعے  سی ڈی اے کو ساحلی علاقوں میں ترقیاتی کام کروانے کا اختیار دیا گیا تھا ،جس پر  گورنر سندھ نے بل واپس کردیا تھا جس پر کابینہ نے گورنر کے اعتراضات پر غور کے بعد سی ڈی اے کا ترمیمی بل دوبارہ منظور کیا ہے

انہوں نے بتایا کہ  اجلاس میں سندھ کابینہ نے سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی رولز 2019 کے ساتھ  سندھ سسٹین ایبل فاریسٹ مینجمنٹ پالیسی 2019  کی منظوری بھی دی جب کہ سندھ کابینہ نے وائلڈ لائف پروجیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ ایکٹ 2019 بھی منظورکرلیا ہے .