گورنرسندھ عمران اسماعیل نے پریس کلب میں فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا

86

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)گورنرسندھ عمران اسماعیل نے منگل کو کراچی پریس کلب میں صحافیوں اور ان کی فیملی کے لئے لگائے گئے فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا۔

گورنرسندھ نے فری میڈیکل کیمپ میں موجود پیپاٹس، ایچ آئی وی، بی ایم ڈی، آر بی ایس، او پی ڈی، آنکھوں، دانتوں اور فزیو تھراپی چیک اپ کے لئے لگائے گئے اسٹال کاجائزہ لیا۔

اس سے قبل کراچی پریس کلب پہنچنے پر پریس کلب کے صدر امتیاز فاران،سیکرٹری ارمان صابر اور گورننگ باڈی کے ممبران سمیت دیگر صحافیوں نے گورنرسندھ کا استقبال کیا۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کو کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران نے کلب کے مسائل بتاتے ہوئے درخواست کی کہ وہ صحافیوں کو ہاکس بے میں سندھ حکومت کی جانب سے الٹ کی گئی زمین حاصل کرنے میں پیش آنے والی دوشواریوں کو حل کروانے میں وہ اپنا کردار اداکریں،

گورنرسندھ کو سیکریٹری کراچی پریس کلب ارمان صابر اور دیگر گورننگ باڈی کے ممبران نے سینئر صحافیوں اور کراچی پریس کلب کے ممبران کو بھی نئے پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں شامل کرنے کی بھی درخواست کی,

بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان سے کراچی پریس کلب کے لئے گراؤنڈ کی بات کریں گے،اس سلسلے میں جلد کلب کے ممبران کو خوشخبری دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پریس کلب میرے گھر جیسا ہے اور میں نے اپنی سیاست کا آغاز یہاں سے ہی کیا تھا۔ اس کلب کو بہتر بنانے میں موجودہ صدر اور گورننگ باڈی کا کلیدی کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اس کو شہر کا بہترین کلب بنایا جائے جہاں صحافیوں کوہر ممکن سہولیات میسر ہوں۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد صحافیوں کے لئے الٹ کی گئی زمین کا مسائل متعلقہ ادارے اور وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں لائے گے،

دھرنے کے بارے میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے گورنرسندھ نے کہا کہ جے یو آئی کا دھرنا آخری ہچکیاں لیتے ہوئے اپنے منقی انجام تک پہنچ چکا ہے عوام خود راستے کھو رہی ہے۔

تھرکے علاقہ کا رو نچھل میں موجود مائنز اینڈمنرلز کے بارے میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ تھر میں موجود وافر مقدار میں معدنیات کے ذخائر ہیں جس کے لئے حکومت سندھ کو عملی اقدامات کرنے چاہئے،بین الاقوامی سرمایہ کار اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو بہتر مواقع فراہم کرنے میں حکومت سندھ اپنا کردار ادا کرے۔

صوبہ میں کتے کے کاٹنے اور انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماریوں سمیت دیگر مسائل کے بارے میں کئے گئے سوال پر گورنرسندھ نے کہا کہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے

ضرورت اس بات کی ہے کہ روک تھام کے لئے سندھ حکومت متعلقہ این جی اوز کے ساتھ مل کر کوئی لائے عمل تیار کرے تاکہ عوام اس مشکل سے نکل سکے جبکہ انفیکشن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لئے بھی اقدامات کرنا حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے اور میں امید کرتاہوں کہ وہ اس ذمہ داری کو احسن طریقہ سے ادا کریں گے،

اتحادیوں سے علیحدگی کے بارے میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنرسندھ نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہیں۔نواز شریف کے باہر علاج کے لئے جانے کے بارے میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ ہم عدلیہ کے فیصلوں کا حترام کرتے ہوئے اور ان پر عمل درآمد یقینی بنا رہے ہیں،

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے کا رنج ہے اور دعا گو ہوں کہ وہ جلد صحت یاب ہوکر واپس آئے کیونکہ انہوں نے قوم کو حساب دینا ہے جوکہتا تھا مجھے کیوں نکالا آج وہ باہر چلا گیا۔،

این آر او کے بارے میں کئے گئے سوال پر گورنرسندھ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کسی کو کوئی این آر او نہیں دیا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ مولانا کا دھرنا بے جان ہوچکا ہے ان کے ساتھ لوگ نہیں ہے اسی لیے انہوں نے اسلام آباد سے دھرنا ختم کیا،

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ سیاسی معاملات سیاسی لوگ دیکھتے ہے فوج اپنا کام کررہی ہے انہوں نے کہا کہ کسی کو این آر او نہیں دیا گیا بلکہ عدالتی فیصلے کا احترام کیا گیا،

انہوں نے کہا کہ جو صوبے میں صحت سے متعلق صورتحال ہے اس پر وزیر اعلی سندھ اور متعلقہ لوگوں کو آگا ہ کرتا رہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ سندھ معادنیات سے مالا مال ہے ہمارے پاس بین الاقوامی معیار کے ماربل کے ذخائر ہے۔جسے ایکسپورٹ کر کے اربوں ڈالر کمایا جاسکتا ہے۔