عدلیہ طاقتوراور کمزورمیں امتیازکا تاثر ختم کرے، وزیراعظم

78
حویلیاں: وزیراعظم عمران خان ہزارہ موٹر وے کا افتتاح کررہے ہیں

اسلام آباد ،ایبٹ آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ طاقتور اور کمزور کیلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور آئندہ چیف جسٹس گلزار احمد سے گزارش کرتا ہوں کہ انصاف کے لیے کردار ادا کریں۔ طاقتور لوگ فیصلے لکھواتے رہیں۔ ملک کو ان چیزوں سے آزاد کرائیں۔کابینہ کے زیادہ تر افراد نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کی مخالفت کی لیکن شکر کریں کہ مجھے رحم آ گیا اور بدلے میں صرف ان سے 7 ارب روپے کی گارنٹی مانگی مگر ڈرامے شروع ہو گئے، حالانکہ یہ 7ارب روپے کی تو ٹپ دے سکتے ہیں۔ شہباز شریف کسی کی کیا گارنٹی دیں گے، وہ تو خود مقدمے بھگت رہے ہیں۔ بلاول زرداری لبرل بنتا ہے لیکن وہ لبرلی کرپٹ ہے۔ مولانا فضل الرحمان بچوں کو گمراہ کر رہے ہیں، ان کی آخرت کی بہت فکر ہے۔ سب اکٹھے ہو جائو، جو کرنا ہے کر لو، میرا اللہ سے وعدہ ہے کہ اس ملک کا پیسا چوری کرنے والے ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ہزارہ موٹروے حویلیاں مانسہرہ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر کے اوپر جو سرکس ہوئی اس پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں، دھرنے کے ایکسپرٹ پی ٹی آئی والے ہیں۔ میں نے پہلے دن سے کہا تھا کہ یہ ایک ماہ گزار کر دکھائیں تو مان جائوں گا۔ ہم نے 126 دن گزارے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کے بچوں کے حوالے سے ہم ذمہ داریاں لیں گے۔ جے یو آئی (ف )کے دھرنے کے بارے میں جب بچوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہ اسلام خطرے میں ہیں۔ کسی کوپتا نہیں تھا کہ آئے کیوں ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پیسوں کے لیے دین کو بیچنا بہت بڑا گناہ ہے، ایک آدمی خود کو مولانا کہہ رہا ہے، ڈیزل کے پرمٹ پر بکنے والا ہے، کشمیر کمیٹی کے چیئر مین شپ پر بکنے والا وہ اسلام کے نام پر بچوں کو ورغلا رہا تھا۔ میںنے ان سے کوئی انتقام نہیں لینا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے مولانا فضل الرحمٰن کی آخرت کی فکر ہے، دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں وہ سزا نہ دے جو اس کو ملنی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف دھرنے کے دوران کنٹینرز پر کھڑے ہوئے تھے، جو منڈیلا بنے ہوئے تھے، نواز شریف کے معاملے پر عدالتی فیصلہ تسلیم کرتے ہیں، شہباز شریف کہتے ہیں میرے بھائی کو کچھ ہوا تو عمران خان ذمہ دار ہوں گا، جو قیدی جیلوں میں مرے کسی نے ان کے بیوی بچوں سے پوچھا؟ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی طبیعت زیادہ خراب تھی، میں نے زر ضمانت کے لیے 7 ارب روپے مانگے تھے، یہ ان کے لیے بہت معمولی چیز تھی یہ اتنا تو ٹپ دے سکتے ہیں، اس پر ان لوگوں نے ڈرامے شروع کر دیے۔ شہباز شریف نے بالی ووڈ کی ایکٹنگ کرنا شروع کر دی۔ کہتے میں اپنے بھائی کی گارنٹی دیتا ہوں، میں کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے اپنے بیٹے، داماد کی گواہی دیں۔ میاں نواز شریف کے دونوں بیٹے بھاگے ہوئے ہیں۔ اسحق ڈار بھی باہر بھاگے ہوئے ہیں ان کی گارنٹی کون دے گا، میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ (شہبازشریف)کی گارنٹی کون دے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور آئندہ چیف جسٹس گلزار احمد سے گزارش کرتا ہوں کہ انصاف کے لیے کردار ادا کریں، طاقتور لوگ فیصلے لکھواتے رہیں، ملک کو ان چیزوں سے آزاد کرائیں۔ دونوں عظیم ججزسے قوم کی طرف سے کہتا ہوں اس تاثر کو ٹھیک کریں۔ دونوں عظیم ججز ہیں، چاہتا ہوں کہ قانون کو ٹھیک کرنا چاہیے، چاہتا ہوں کہ کمزور سے کمزور آدمی بھی طاقتور کے سامنے کھڑا ہو تو اسے یقین ہو اسے انصاف ملے گا۔ حکومت مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔پیسا جتنا بھی ہو ہم دینگے۔ انصاف کے معاملے پر عدلیہ نے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کنٹینر پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری بھی موجود تھے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلاول زرداری نے جو تھیوری دی اس پر آئن اسٹائن کی روح بھی تڑپ رہی ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلاول زرداری خود کو لبرل کہتے ہیں مگر وہ لبرلی کرپٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کنٹینر پر دیگر افراد میں بے روزگار سیاست دان بھی تھے جنہیں ڈر ہے کہ وہ پکڑے جائیں گے وہ کنٹینر پر موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) والے جہادی بھی بن جائیں گے لبرل بھی بن جائیں گے جہاں ان کا پیسا بچ جائے یہ اس طرح خود کو تبدیل کرلیتے ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں ان کی بلیک میلنگ میں آکر اگر اداروں کو پیچھے ہٹنے کا کہہ دوں تو میں اپنی قوم سے غداری کروں گا۔میں جنرل مشرف کی طرح مک مکا کرلوں، انہیں این آر او دے دوں تو سب آرام سے بیٹھ جائیں گے اور ملک میں کوئی افرا تفری نہیں ہوگی مگر مجھے خوف خدا ہے، مجھے اپنی آخرت کی فکر ہے میں ان کی طرح نہیں، این آر او کا مطلب ہے کہ ان کے کرپشن کیسز معاف کردیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے گزشتہ 10 سالوں میں پاکستان کا قرضہ 4 گنا بڑھایا ہے، مہنگائی کی وجہ سے قوم پر مشکل وقت گزر رہا ہے اور یہ مشکل وقت ان ہی کی وجہ سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں 100 دن سے زائد ہو گئے وہاں ظلم ہو رہا ہے، ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے توکون کھڑا ہو گا۔ پاکستان میں سارا میڈیا جے یو آئی(ف)کے دھرنے کی طرف لگا ہوا تھا، اپوزیشن کی ایک کوشش تھی کہ یہ سب لوگ پریشر ڈال کر کسی نہ کسی طرح کرپشن کیس سے پیچھے ہٹ جائیں۔سی پیک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہمیں بہت فائدہ ملے گا، ہمیں پاک چین اقتصادی راہداری سے زراعت کو بہت فائدے ملے گا ہماری زراعت کی پیداوار بہت کم ہے اب بہت تیزی سے آگے بڑھے گی۔ ہم زرخیز زمین ہیں، ہمیں صرف پیداوار دگنی ہیں تو پاکستان میں خوشحالی آ جائے گی، اس کے لیے ہمیں پانی کا صحیح استعمال کرنا ہو گا۔ دودھ کی پروڈکشن بھی بڑھانے کے لیے سی پیک اہم کردار اد کرے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں پیسا اپنے عوام پر لگانا ہے، نوجوانوں پرپیسا لگانا ہے، تعلیم پر اور ہسپتالوں پرپیسا لگائیں گے۔علاوہ ازیںوزیراعظم عمران خان کا پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان سے سیاسی، قانونی اور آئینی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عوامی ریلیف کے لیے اس ماہ بڑے ایکشن سامنے آئیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان سے پی ایم ہاوس میں ملاقات کے دوران سابق وزیرِ اعظم نوازشریف سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر مشاورت کی۔ اس دوران گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ احتساب ہمیشہ پہلی ترجیح رہے گی، این آر او مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مضبوط رکھنے کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، قانون کی حکمرانی سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، کرپشن ریاست کے لیے دیمک ہے، اداروں کی تعمیر نو کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی ریلیف کے لیے اس ماہ بڑے ایکشن سامنے آئیں گے، میڈیا قوم کی تعلیم و تربیت کا فرض ادا کرے ۔