پروفیسر شفیع ملک

68

تحریر: رانا محمود علی خان
پروفیسر شفیع ملک 1928میں تجارہ ریاست الور، راجپوتانہ میں پیدا ہوئے والد کا نام محمد ابراہیم خان ہے۔ تجارہ کی سرزمین علم کے لحاظ سے زرخیز تھی اور تجارہ میں میٹرک تک اسکول تھااس لیے میٹرک تک تعلیم کی سہولت ہونے کی وجہ سے نوجوانو ں کی اکثریت تعلیم سے آراستہ ہوئی اور پروفیسر شفیع ملک نے بھی میٹرک تجارہ سے کیا۔ اگست 1947میں آپ نے پاکستان ہجرت کی اور حیدرآباد کو مسکن بنایا حیدر آباد کی مشہور درسگاہ گورنمنٹ کالج کالی موری سے B.A کیا اور اسی زمانے میں اسلامی جمعیت طلباحیدرآباد کے پہلے ناظم منتخب ہوئے B.Aکے بعد سندھ یونیورسٹی میں شعبہ اکنامس میں داخلہ لیا اورنمایاں نمبروں سے امتحان پاس کیا۔ تعلیم کی فراغت کے بعدتعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہوئے اوراسلامیہ کالج ٹنڈو الہیار میں پرنسپل کے عہدہ پر فائز ہوئے اُس وقت ٹنڈوالہیارمیں چوہدری رحمت الٰہی مرحوم سابق سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ٹنڈو الہیار میں مقیم تھے اور پروفیسر کریم بخش نظامانی بھی اسلامیہ کالج میں لیکچرار تھے۔ ٹنڈوالہیار میں جماعت کی مضبوط ٹیم کی موجودگی میں جماعت اسلامی کا کام مضبوط بنیادوں پر قائم ہوا اور آج بھی قائم ہے ملک نے 1954حیدرآباد میں ٹریڈ یونین کے کام کا آغاز کیا۔ آپ نے ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری میں 1956میں یونین رجسٹرڈ کروائی اور اسی طرح سے انڈس گلاس ورکس میں بھی یونین کی تشکیل دی۔ پروفیسر شفیع ملک ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری کے کئی سال تک عہدہ پر فائز رہے اور ذیل پاک سیمنٹ فیکٹری ایمپلائز یونین حیدرآباد کو یہ فخر حاصل ہے کہ یونین کے عہدیداروں سے عظیم مفکر مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی نے حلف لیا۔ 1960میں ملک صاحب پر غنڈو ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم ہوا اور 1960ہی میں ڈپٹی کمشنر نے مارشل لاء کے تحت سزا سنائی اور بعد میں اس سزا کو معاف کیا۔ جولائی1960میں ایوب خان کی مارشل لاء کی وجہ سے ٹریڈ یونین کے کام کو کرنے میں سخت مشکلات پیدا ہوئی اور مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی کی مشاورت سے جولائی 1960میں ٹریڈ یونین کے کام کو معطل کردیا گیا اور کچھ عرصہ کے لیے لاہور منتقل ہوئے دوبارہ کچھ عرصہ کے بعد حیدرآباد منتقل ہو گئے۔ لطیف آباد میں غزالی آرٹس اینڈ کامرس کی بنیاد رکھی اور پہلے پرنسپل بنے۔ NLF میں کام کے آغاز کے لیے 1969میں پرنسل کے عہدہ سے فارغ ہوئے اور کراچی منتقل ہو گئے۔ غزالی کالج اب بھی گورنمنٹ غزالی کالج کے نام سے لطیف آباد میں قائم ہے۔ اس کالج سے میرے مرحوم بیٹے یاسر محمود نے بھی B.Com کا امتحان پاس کیا تھا۔ پروفیسر شفیع ملک 9 نومبر 1969 میں NLFکے پہلے بانی صدر منتخب ہوئے اور یہ وہ دور تھا جس میں ٹریڈ یونین میں بائیں بازوںکے نظریاتی ٹیم کا تسلط تھا۔ اس ماحول میں NLFکے کام کا آغاز ہوا 29 دسمبر 1970 کو ملک کا پہلا ریفرنڈم PIAمیں منعقد ہوا او زر NLF کی یونین پیاسی نے ریفرنڈم میں ائر ویز کو شکست دے کر ملک کے پہلے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی میں نہ صرف پاکستان بلکہ ملک کے باہر بھی نیشنل لیبر فیڈریشن کی موثر پبلسٹی کا سبب بنی۔ اس ریفرنڈم کے بعد کراچی KDA، نیشنل بینک اور پراچہ ٹیکسٹائل مل میں ریفرنڈم کی کامیابیوں سے نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی شہر میں اپنا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ جس کے بعد کراچی شپ یارڈ، پاکستان اسٹیل اور پاکستان ریلوے میں نیشنل لیبر فیڈریشن سے ملحقہ یونینوں نے پروفیسر شفیع ملک کی قیادت میں ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد NLF پاکستان کی ایک مضبوط ٹریڈیونین فیڈریشن کے طور پر سامنے آئی۔ 1979سے ILOکے اجلاسوں میں شرکت کرنے کا آغاز شروع ہوا اور یہ کئی سال تک مسلسل جاری رہا۔ ملک صاحب نے روس کا بھی دورہ کیا ہے۔ اس کی تفصیل ملک نے اپنی کتاب اسلامی مزدور تحریک میں تحریر کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پروفیسر شفیع ملک نے اپنی صلاحیت ،محنت اور ٹریڈ یونین کی تاریخ پر اپنی گرفت مضبوط ہونے پر پاکستان کی مزدور تحریک میں نام پیدا کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کے ملک عالمی سطح کے ٹریڈ یونین لیڈر تھے جو اپنے علم اور قابلیت کی بنیاد پر عالمی سطح پر بھی اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے اور اسلامی ممالک کی فیڈریشن کی تشکیل کے لیے جمال البرنہ (مصر) کے ساتھ مل کر انٹرنیشنل اسلامک کنفیڈریش آف لیبر 1981میں قائم کی اوراس کو کامیاب بنانے کے لیے ملک نے انتھک کوشش کی۔ پروفیسر شفیع ملک اگست2000 کو NLFسے فارغ ہو گئے۔ NLFکے صدر کی حیثیت سے پروفیسر شفیع ملک نے پاکستان ورکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ (وی ٹرسٹ)کی بنیاد رکھی تھی جس کا دفتر 27الامنہ پلازہ M.Aجناح روڈ پر قائم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عبد الرحمن چھاپرہ مرحوم نے ٹرسٹ کے قائم کرنے کے لیے بڑی مدد کی۔ پروفیسر شفیع ملک اس ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں جب کہ میں ابتداء سے اس ٹرسٹ کا وائس چیئرمین رہا ہوں وی ٹرسٹ اب ایک مضبوط ٹرسٹ کی حیثیت سے مزدور تحریک میں اپنا نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔ پروفیسر شفیع ملک نے کئی کتابیں تحریر کی ہیں جس میں پاکستان مزدور تحریک کا نظریاتی مطالعہ (1962)، پاکستان کی لیبر پالیسی (1982)، یوم خندک ایک پیغام اور تحریک (1987)، پاکستان کے محنت کشوں کا قومی چارٹر، پاکستان میں انجمن سازی کی آزادی اور اجتمائی سودا کاری (2000)، مزدور تحریک مزدور مسائل اور سید مودودی (2011)، اسلامی مزدور تحریک کی سفر کی کہانی(2014)جیسی اہم کتابیں تصنیف کی۔ محترم پروفیسر شفیع ملک مزدور تحریک کے علم کا خزانہ ہیں اس عمر میں بھی محترم شفیع ملک انتہائی محنت سے نہ صرف کام کرتے ہیں بلکہ تحقیق کا بھی سلسلہ جاری ہے کئی سالوں سے ماہانہ الکاسب وی ٹرسٹ کی طرف سے شائع کرتے ہیں۔ گولڈن جوبلی کا تصور اور خاکہ بھی پروفیسر شفیع ملک نے دیا اگر اس خاکے پر پوری طرح عمل ہو جاتا تو نیشنل لیبر فیڈریشن کا پیغام پاکستان کے ہر محنت کش کو پہنچ جاتامیں نے بھی ٹریڈ یونین پروفیسر شفیع ملک سے سیکھی ہے اور مجھے NLFمیں لانے والے بھی پروفیسر شفیع ملک ہیں مجھے اس پر فخر ہے کہ میں نے ٹریڈ یونین کی تاریخ ، جدو جہد پروفیسر شفیع ملک سے سیکھی ہے۔ پروفیسر شفیع ملک ایک اچھے مقرر ،ٹریڈ یونین کے نقشہ خدوخال پر گہری نظر ہے اور ایک اچھے استاد بھی ہیں مزدور تحریک میں دیگر فیڈریشن ملک کو آج بھی انتہائی قدر سے دیکھتی ہیں اور احترام کرتی ہیں اس کی وجہ ان کا علم ہے سوچ اور فکر ہے اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پروفیسر شفیع ملک کو اچھی صحت دے عمر دراز دے اور ان کا سایہ قائم رکھے (آمین)۔