ویلفیئر بورڈ میں کرپشن پر جمال الدین کا نوٹس

62

سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید جمال الدین نے بورڈ کے چیئرمین و لیبر منسٹر سندھ کو اپنے قانونی مشیر کے توسط سے 10 اکتوبر کو قانونی نوٹس ارسال کیا ہے۔ جس میں ان کی توجہ بورڈ میں بدانتظامی، بے قاعدگیوں اور مالیاتی کرپشن کی جانب مبذول کرواتے ہوئے متعدد دستاویزی ثبوت بھی ساتھ منسلک کیے ہیں اور ان سے درخواست کی ہے کہ ملوث افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، وگرنہ اس معاملے کو عدالتی کارروائی کے لیے عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے دو ڈپٹی ڈائریکٹر احتشام خان اور خالد کھوکھر کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ان دونوں افراد نے دھوکا دہی اور جعلی تعلیمی اسناد پر ملازمت حاصل کی ہیں۔ جبکہ سابقہ سیکرٹری بورڈ آصف میمن ان کی پشت پناہی و سرپرستی کرتے رہے ہیں، جن پر خود NAB انکوائری کررہی ہے کہ ٹنڈو محمد خان میں بورڈ کی زمین کو اومنی گروپ کی ملکیت میں دے کر اور اس گروپ کو تعمیراتی ٹھیکہ دے کر اس جگہ پر لیبر کالونی کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی دے دیا گیا ہے۔ SWWB میں اتنی سنگین بدعنوانیوں اور کرپشن کے باوجود حکومت سندھ نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے بلکہ ان کرپٹ افسران کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔