مدافعانہ کشمیر پالیسی کب تک جاری رہے گی؟

199

مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے محاصرے کو سو دن پورے ہوئے تو اس دوران تحریک مزاحمت کے بزرگ اسیر وعلیل لیڈر سید علی گیلانی کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام ایک خط منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے نہایت دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ حکومت پاکستان کو کشمیر پالیسی کے حوالے سے کچھ مشورے دیے ہیں۔ سید علی گیلانی نے اپنے علالت اور ناسازی طبع کو دیکھتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شاید یہ وزیر اعظم پاکستان سے ان کا آخری رابطہ ہو۔ سید علی گیلانی نے لکھا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تاشقند، شملہ، لاہور سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں سے الگ ہوجائے کیونکہ بھارت نے ان معاہدوں کو توڑ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن کے تمام معاہدوں سے الگ ہوجائے اور کنٹرول لائن کو دوبارہ سیز فائر لائن بنایا جائے۔ سید علی گیلانی کے اس خط میں حکومت پاکستان کو جائز مشورہ دیا گیا ہے۔ پانچ اگست کے بعد سے اب تک کی صورت حال میں پاکستان نے ابھی تک مدافعانہ پالیسی اپنائی ہے۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ اگر بھارت نے یہ کیا تو پاکستان وہ کرے گا۔ پانچ اگست کے بعد اب بھارت کی نظریں آزادکشمیر پر جمی ہوئی ہیں۔ بھارت نے پانچ اگست کے فیصلے کے تناظر میں حال ہی میں ایک نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں مقبوضہ جموں وکشمیر اور لداخ کو بھارت کا حصہ جبکہ آزادکشمیر کو جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کو لداخ کا حصہ دکھایا گیا ہے اور ان علاقوں کے نام بھی لکھ دیے گئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسے سیاسی نقشہ کہہ کر مسترد کیا ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی قرار دیا ہے۔
کشمیر کے حوالے بھارت اور پاکستان کا اپنا اپنا موقف رہا ہے۔ بھارت نے ابتدائی چند برس چھوڑ کر ہر موقع پر کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ اور آزادکشمیر کو پاکستانی مقبوضہ کشمیر کہا جبکہ پاکستان نے سری نگر کو مقبوضہ جموں وکشمیر اور اپنے زیر انتظام علاقے کا آزادکشمیر کا نام دیا۔ فرق صرف یہ تھا کہ پاکستان نے کشمیر کو اپنا حصہ بنانے اور سمجھنے کے بجائے اسے ایک متنازع علاقہ قرار دیا اور سری نگر پر اپنا حق جتلانے کے بجائے اپنے اور بھارت دونوں کے زیر انتظام حصوں میں رائے شماری پر ہمیشہ آمادگی ظاہر کی۔ کشمیریوں کے لیے یہی دو الگ پوزیشنیں دونوں ملکوں کو الگ الگ رویے کا جواز فراہم کرتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کا مقصد بھارت کو کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے چل رہی ہے۔ کشمیر کی آزادی پسند سیاسی اور عسکری قیادت نے ہر دور میں یہ کہا ہے کہ اگر بھارت کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کرے تو وہ بھارت کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کریں گے۔ نوے اور دوہزار کی دہائیوں میں کشمیریوں کی یہ پیشکش برقرار رہی مگر بھارت نے کشمیر کو متنازع تسلیم کرنا تھا نہ کیا۔ اگر پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع بھی کیے گئے تو اس کا رخ کشمیر میں بقول ان کے ہونے والی دہشت گردی کی جانب ہی رہا۔ مسئلہ کشمیر کے حقیقی اور پائیدار حل کی سوچ کہیں غالب دکھائی نہیں دی۔ بھارت ہر دور میں طاقت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی طرف پیش قدمی کرتا رہا۔ پانچ اگست اس مہم اور تجاوز کا آخری مرحلہ تھا جو بظاہر بھارت نے طے کر لیا۔ اکتیس اکتوبر کو بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور لداخ کو باضابطہ طور پر یونین میں ضم کردیا اور کشمیر کی مقامی اور کشمیر ی شناخت کی حامل علامتوں کو مسخ کرکے ان پر ہندوستان کا رنگ چڑھا دیا گیا۔ بھارت کا خیال ہے یہ کشمیر کی انڈینائزیشن کی جانب بہتر سال میں اُٹھایا جانے والا سب سے اہم ترین قدم ہے۔ نریندر مودی اپنا آخری کارڈ کھیل چکے ہیں مگر اب اسے تقدیر کے کارڈ کا خوف ہے۔ وہ محصور اور مجبور عوام کے ردعمل سے خوف زدہ ہے۔ تین ماہ سے جاری کرفیو اور محاصر ہ اسی خوف کا اظہار ہے۔ کشمیری عوام کا ردعمل، اپنے وجود اور بقا کے لیے جان سے گز ر جانے کا جذبہ اس تحریک کو ہر مدوجزر سے نکال کر زندہ رکھنے کے لیے قوت محرکہ کا کام دیتا رہا ہے۔ یہ جذبہ اب بھی سلامت ہے اور یہی خوف بھارت کو کشمیر میں اپنی گرفت ڈھیلی کرنے اور زندگی کو معمول پر آنے سے روکے ہوئے ہے۔ بھارت نے یک طرفہ فیصلوں کے ذریعے کشمیر کی شناخت مسخ کرکے اب اسی مسروقہ علاقے کا نقشہ جاری کیا ہے۔ بھارت نے طاقت کے زور پر فیصلے کیے ہیں اور من پسند نقشہ بھی اس زوآوری کا شاخسانہ ہے۔
بھارت نے مقبوضہ علاقے کا متنازع اسٹیٹس ختم کر دیا آزادکشمیر کا متنازع اسٹیٹس برقرار ہے۔ آزادکشمیر پاکستان کا آئینی حصہ بھی نہیں اور آئین پاکستان میں اس علاقے کو متنازع تسلیم کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ آزادکشمیر کے رشتے خود آزادکشمیر کے آئین عبوری ایکٹ 74 میں درج ہیں۔ آزادکشمیر کا اس انداز کا اسٹیٹس نئے حالات میں بھارت کے دعوے میں وزن پیدا کر رہا ہے۔ بھارت آزادکشمیر کے کسی بھی علاقے پر حملہ کرسکتا ہے کہ اس نے پاکستان کے آئینی حصے کے بجائے ایک متنازع علاقے پر حملہ کیا ہے یوں قانونی موشگافیوں اور پیچیدگیوں کا ایک نیا کھیل شروع ہوسکتا ہے۔ ابھی تک بھارت ایک جارحانہ پالیسی اپنا کر اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے اور پاکستان مدافعانہ پالیسی اپنائے کسی بڑے اور کھلے معرکے کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ عین ممکن ہے کہ بھارت آگے بڑھ کر سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔ سندھ طاس معاہدے کا ضامن ورلڈ بینک ہے مگر ان عالمی اداروں نے بھارت کا پہلے کیا بگاڑا ہے جو اب بگڑ جائے گا۔ ورلڈ بینک بھی ایسے کسی ممکنہ تنازعے میں عالمی عدالت انصاف میں کل بھوشن کیس کی طرح ’’سب کی جیت‘‘ کا مبہم اور گول مول فیصلہ سنا سکتا ہے جس سے زمینی حقائق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بھارت اگر قسطوں میں اپنے مقاصد حاصل کرتا رہا تو اس بڑی جنگ کی نوبت نہیں آئے گی جس کے انتظار میں پاکستان صبر کے کڑوے گھونٹ پیے جا رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ ستر بہتر سال کی دوستی یا کم از کم تجدید تعلقات کے تمام عہد وپیماں عملی طور پرگنگا کی موجوں کی نذر کر دیے ہیں۔ اس لیے یہ سوچ تقویت حاصل کررہی ہے کہ اب پاکستان کو بھی رسمی طور پر ان معاہدات سے دست بردار ہوجانا چاہیے۔ جارحانہ انداز اگر ممکن نہ ہو تو اسے بھی تھوڑ ا جاندار سا مدافعانہ فعل سمجھ کر اپنایا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ریاست پاکستان ابھی تک گومگوں کا شکار ہے یا پھر اس مغالطے کی زد میں ہے کہ مردہ عالمی ضمیر کسی روز اچانک جاگ پڑے گا اور چاروں طرف چوکڑیاں بھرتا دکھائی دے گا پھر دنیا میں ناانصافیوں کے دور اختتام کو پہنچیں گے۔ دل کے بہلانے کو تو یہ خیال اچھا ہے مگر عملی طور پر ایسے کسی معجزے کی توقع عبث ہے۔ سید علی گیلانی نے بھی عمران خان سے اعلان جنگ اور ایٹمی حملے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی قانون، عالمی حالات اور پاکستان کی مجبوریوں اور قوت وسکت کو مدنظر رکھتے ہوئے خود اپنی حد تک معاہدات سے الگ ہونے اور خاتمے کے اعلان کی بات کی ہے۔ اس سے مسئلے کی سنگینی اور شدت وحدت کا احساس کچھ اور سوا ہوگا۔ وگرنہ ہونا وہی ہے جو کشمیر ی عوام کریں۔ قصہ زمین برسرِزمین کشمیر کے مقدر کا فیصلہ کشمیریوں کی مزاحمت اور اس کی سرزمین پر ہوگا۔