کھودا پہاڑنکلا۔۔۔

154

سیاست کے باب میں مولانا فضل الرحمن ہمارے ممدوح ہیں۔ ان کی واعظانہ جرات، مسحور کن خطابت اور طرز سیاست مخالفین کو بھی داد دینے پر مجبور کردیتی ہے۔ آزادی مارچ کی اٹھان، کراچی سے روانگی، شرکاء کا ٹھاٹیں مارتا سمندر، مولانا کا سر دھڑ کی بازی لگانے کا عزم، مہارت سے کارڈ کھیلنے کی صلاحیت، سیاسی بصیرت، مصمم ارادے، استقلال، مستقل مزاجی اور شرر بار لب ولہجے نے مولانا اور ان کی مہم کو بھونچال بنادیا تھا لیکن دھرنے کے اختتام نے سب تجزیے، تبصرے اور اندازے غلط ثابت کردیے۔ گزشتہ الیکشن میں اسمبلیوں سے باہر رہنے کے باوجود مولانا کی نمبر ون اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن تک رسائی، زیرو بنا دیے جانے کے باوجود ہیرو کی وننگ پوزیشن، علماء کرام کی پاکستانی سیاست میں ایک طاقتور فریق کی حیثیت سے واپسی، سول بالادستی پر اصرار، سیکولر اور لبرل طبقوں کی پسپائی یہ اور اسی طرح کی دیگر کامیابیاں یقینا بڑی ہیں لیکن یہ کامیابیاں آزادی مارچ اور دھرنے کا اصل ہدف نہیں تھیں۔ یہ کامیابیاں تو دھرنے کے آغاز سے پہلے ہی حاصل کرلی گئی تھیں۔ ان شان دار کامیابیوں نے اسلام آباد کے اجتماع سے توقعات میں بے حد اضافہ کردیا تھا۔ پھر عمران خان کو مولانا جس لب ولہجے میں للکار رہے تھے، استعفے سے کم کسی بات پر تیار نہیں تھے، اس نے امیدوں کو اس حدتک بڑھاوا دے دیا تھا کہ لگتا تھا کہ مولانا اس سے کم پر اسلام آباد سے رخصت ہوں؟ ناممکن۔ لیکن۔۔۔ غصہ اور انتقام بویا گیا، آگ بھڑکائی گئی، محروم عوام کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا اور پھر اپنے ہی ہاتھوںسب کچھ بے اثر کردیا گیا۔
مارچ کے آغاز سے لے کر اسلام آباد پڑائو تک مولانا فضل الرحمن یقین کی آخری سرحدوں پر کھڑے اس ارادے کا اظہار کررہے تھے اور متواتر کررہے تھے کہ وہ عمران خان کا استعفا لیے بغیر اسلام آباد سے نہیں جائیں گے۔ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی سے بھی وہ بڑے جاہ وجلال سے ایک ہی بات کہتے تھے کہ آئو تو وزیراعظم کا استعفا لے کر آئو۔ ’’حکومتی کمیٹی سے کہہ دیا استعفا لیے بغیر نہ آئے‘‘۔ اختتام سے ایک دن پہلے بھی ان کا فرمان تھا کہ ’’ناجائز اور بدبودار حکومت کا خاتمہ ایمان کا تقاضا ہے‘‘۔ شرکاء سے خطاب کے دوران وہ الفاظ بدل بدل کر حکومت کے خاتمے تک دھرنا جاری رکھنے کی بات کرتے تھے۔ ’’حکومت اس اجتماع کو حقارت سے نہ دیکھے، سنجیدہ لے۔ استعفے سے کم پر بات نہیں بنے گی‘‘۔ ’’ملک کو بچانے کے لیے ان حکمرانوں کو مزید ایک روز کا وقت بھی نہیں دے سکتے‘‘۔ ’’ذوالفقار علی بھٹو دوبارہ الیکشن پر
قائل ہوگئے تھے تو عمران خان کیوں نہیں، وزیراعظم کے استعفے تک دھرنا جاری رہے گا‘‘۔ ’’ہمیں اشتعال دلایا گیا تو 24گھنٹوں میں شکست دے دیں گے‘‘۔ ’’ناجائز حکمرانوں کو جانا ہوگا اس سے کم پر بات نہیں ہوگی‘‘۔ ’’عمران خان سن لو، یہ سیلاب نہیں تھمے گا۔ پیچھے ہٹنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم ہائوس جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جان ہتھیلیوں پر رکھ لی‘‘۔ لیکن عملاً کیا ہوا؟ مولانا سب کو بے وقوف بناکر اسلام آباد سے رخصت ہو گئے۔ وزیراعظم ہائوس کی راہیں بھی مولانا کی منتظر ہیں، جان بھی ہتھیلیوں پر رکھی ہوئی ہے، الیکشن کے دوبارہ انعقاد کی تاریخ بھی متعین نہ ہوسکی، وزیراعظم کا استعفا تو کجا کوئی فیس سیونگ بھی میسر نہ آسکی۔ سب کچھ اپنی جگہ بدستور موجود ہے اگر کچھ موجود نہیں ہے تو وہ مولانا اور ان کے بلند آہنگ دعوے۔ مولانا کچھ بھی حاصل کیے بغیر دھرنے سے اٹھ گئے۔ اب لاکھ حیلے، بہانے اور جواز تراشے جائیں، لفظوں کی ملمع کاری کی جائے لیکن حقیقت یہی ہے کہ مولانا جن اہداف کو لے کر اسلام آباد آئے تھے انہیں حاصل کیے بغیر خالی چلے گئے۔ اسے کچھ بھی کہا جاسکتا ہے کامیابی اور فتح نہیں کہا جاسکتا۔
مولانا نے دھرنے کے خاتمے میں جس عجلت کا مظاہرہ کیا وہ حیران کن تھا۔ یکایک ایسا کون سا دبائو آن پڑا مولانا جسے نہ سہار سکے۔ یہ بیرونی دبائو تھا یا اندرونی؟۔ کہاں تو یہ عالم کہ پیچھے ہٹنے کی بات بھی مولانا کو ناگوار گزرتی تھی۔ کہاں یہ عالم کہ ایک جھٹکے میں پورے دھرنے کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ وہ کون شہ خوباں ہے جو مولانا کو اس حدتک دبائو میں لاسکا۔ اس حتمی نتیجے پر مجبور کرسکا۔ دھرنے سے قبل مولانا کی جس ملاقات کے چرچے تھے کیا دھرنے کے یکایک اختتام میں اس ملاقات کو کہیں فٹ کیا جاسکتا ہے؟۔
آزادی مارچ اور اسلام آباد دھرنا مولانا کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ کہا جارہا تھا کہ مولانا ایک سال سے اس کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اس جدوجہد میں مولانا کا کھل کر ساتھ نہیں دیا۔ اس کی ایک وجہ مولانا کی ذات پر عدم اعتماد بیان کی جارہی تھی۔ مولانا نے یکایک دھرنا ختم کرکے ان جماعتوں کی مولانا کی ذات کے بارے میں خیالات کو درست ثابت کردیا؟۔ یہ بات بھی کہی جارہی تھی کہ مولانا جس انتہا پر جانے کی بات کررہے ہیں وہ مولانا کی سیاست اور ان کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مولانا نے اپنے عمل سے ان تمام باتوں کو درست ثابت کردیا ہے؟
مولانا اسی بات کی تکرار کررہے تھے اور عمومی طور پر سمجھا بھی یہی جارہا تھا کہ پلان بی حکومت پر دبائو میں اضافے کا پلان ہے۔ ایسا دبائو کہ حکومت اور اس کے سر پرست بلبلا اٹھیں گے لیکن عملی طور پر پلان بی دبائو بڑھانے کا نہیں گھٹاتے گھٹاتے دبائو تحلیل کرنے کا پروگرام ثابت ہوا۔ کہا جاتا ہے کوئی مسئلہ اگر حل نہ کرنا ہو تو اسے میاں بیوی کے بجائے گھر، گھر کے بجائے محلے، محلے کے بجائے بستی، بستی کے بجائے شہر اور شہر کے بجائے ملک کا مسئلہ بنا دیجیے۔ مولانا نے بھی دھرنے کو پورے ملک تک پھیلا کر ایسا ہی کیا ہے۔ اسلام آباد میں لاکھوں کا اجتماع کرکے، پورے ملک اور میڈیا کی توجہ اپنی طرف کرکے بھی اہداف حاصل نہ کیاجاسکے تو مضافاتی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے دھرنوں سے کیا حاصل کیا جاسکتا ہے؟۔ جنگل میں مورنچا کر کتنے لوگوں کو متاثر کیا جاسکتا ہے؟۔ کراچی سے کوئٹہ جانے والی حب ریور روڈ پرآغاز میں دھرنے کے شرکاء کی تعداد محض 50 اور 60کے درمیان تھی جو رات گئے تک 500تک پہنچ سکی۔ یہ دبائو میں اضافہ ہے!! پشاور چوک پر دھرنے سے حکومت پریشان تھی جب کہ جگہ جگہ دھرنوں سے اگر کسی کی زندگی اجیرن ہے تو وہ عام آدمی ہے۔ کل تک عدالتیں آزادی مارچ اور دھرنے کو مولانا کا جمہوری حق قرار دے رہی تھیں آج وہی عدالتیں سڑکیں بند نہ کرنے کا حکم دے رہی ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سب کے سامنے ہے۔ پلان بی دبائو میں اضافے کا نہیں ایک پھنسی ہوئی سچویشن اور بند گلی سے بحسن وخوبی نکلنے کا پلان ہے۔
مولانا فضل الرحمن ایک ایسے نظام کی چولیں درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں جسے اصلاح کی نہیں تدفین کی ضرورت ہے۔ اس کرپٹ نظام کو سنوارنے کے لیے مولانا کا تجربہ ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں بھی ایسی ہر کوشش اسی انجام سے دوچار ہوئی ہے۔ مولانا کا آزادی مارچ اور دھرنا اگر کامیاب بھی ہوجاتا، عمران خان کی حکومت کا خاتمہ بھی ہوجاتا تو یہ محض وقتی تسکین اور چہروں کی تبدیلی ہوتی۔ کیا نئے الیکشن اور نئی حکومت آنے کے بعد ملک سے کرپشن ختم ہوجاتی، اسمبلیوں میں کرپٹ افراد کا داخلہ ممنوع ہوجاتا، غربت کا خاتمہ تو کجا غربت میں کمی آجاتی، ہمارا عدالتی نظام ظالموں کو تحفظ دینا بند کردیتا، مظلوموں کو انصاف کی فراہمی ملنا شروع ہوجاتی۔ اس نظام سے کسی طور خیر کی امید نہیں۔ جدوجہد اس نظام میں مصنوعی تبدیلیوں کے لیے نہیں بلکہ خلافت راشدہ کے نظام کے قیام کے لیے ہونی چاہیے۔