محکوم کشمیریوں کے لیے روشنی کی ایک کرن

108

مقبوضہ کشمیر کے محاصرے اور ایک کروڑ پچیس لاکھ کشمیریوں کی قید کے مصائب کو ایک سو سے زیادہ دن ہوگئے ہیں لیکن اس سنگین صورت حال پر دنیا کی کان پھاڑ دینے والی خاموشی طاری ہے۔ پاکستان میں بھی حکومت اور عوام ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر پر تعریف کے ڈونگرے برسا کر مطمئن ہو کرکرتارپور راہداری کے افتتاح اور اپنے سیاسی معرکوں میں الجھ گئے ہیں۔ مسلم ممالک میں صرف ترکی اور ملائیشیا نے کشمیریوں پر ہندوستان کے اس عذاب کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور ہندوستان کی ناراضی بھی مول لی ہے۔ دوسرے مسلم ممالک بھی مصلحت کی گھنگنیاں منہ میںڈال کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ مسلم رائے عامہ کو یہ دیکھ کر سخت افسوس ہوا کہ مقبوضہ کشمیر کی خاص حیثیت کے خاتمے کے بعد اکتوبر کے آخر میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کے دورے پر گئے تھے جہاں انہوں نے سعودی فرماں روا اور ولی عہد سے باہمی مفاد اور بین الاقوامی امور پر صلاح مشورہ کیا تھا لیکن کہیں سے یہ خبر نہیں آئی کہ اس بات چیت میں کشمیر میں مسلمانوں کی حالت زار پر کوئی تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر کے بارے میں عالمی خاموشی سے عمران خان بھی ہمت ہار گئے ہیں۔
ادھر کشمیر کی خاص حیثیت کے خاتمے اور اسے کلی طور پر ہندوستان میں ضم کرنے کے اقدام کے وقت کشمیریوں کو مقید کرنے کے لیے ہندوستان نے اپنی جو سات لاکھ فوج تعینات کی تھی اس میں مزید دو لاکھ کا اضافہ کر دیا ہے جو وادی کی شاہراہوں، سڑکوں اور گلیوں کے ساتھ کشمیریوں کے مکانات کے سامنے بھی مورچے سنبھالے ہوئے ہے۔ آسمان پر اسرائیل ساختہ ڈرون مظاہریں پر نگاہ رکھنے کے لیے مسلح فوج کی مدد کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کا سلسلہ اب بھی منقطع ہے البتہ لینڈ لائن فون اور محدود موبائل سروسز بحال ہو گئی ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں کو وادی میں داخلے کی اجازت نہیں ہے اور ایک ہزار سے زیادہ کشمیری رہنما اور کارکن کشمیر سے باہر ہندوستان کی جیلوں میں مقید ہیں۔ اب بھی بہت سے والدین کو اپنے گرفتار شدہ بچوں اور دوسرے عزیز رشتہ داروں کی کوئی خبر نہیںکہ وہ کہاں قید ہیں۔ یہ والدین اپنے گرفتار شدہ بچوں کی تلاش میں جیلوں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں صرف ایک غیرملکی وفد کو کشمیر کے دورے کی اجازت دی گئی ہے۔ ۲۲ افراد پر مشتمل یہ وفد یورپی یونین کے دائیں بازو کے اراکین پارلیمنٹ میں سے چنا گیا ہے جن سے ہندوستان کے حکام کو کسی تنقید کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کشمیر سے باہر خبریں بھیجنے پر سخت پابندی ہے۔ صحافی صرف حکومت کے انٹرنیٹ مراکز سے خبریں بھیج سکتے ہیں اور انہیں بھی خبریں بھیجنے میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں کیونکہ ان کی خبروں کو سنسر کرنے کے عمل کے بعد بھیجا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتہ وادی کشمیر میں شدید برف باری ہوئی ہے جس کی وجہ سے عوام نے تین روز تک بجلی کے بغیر تاریکی اور سخت سردی میں گزارے۔
نریندر مودی کی حکومت اسرائیل کی طرز پرکشمیر کی وادی میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جس طرح ارض فلسطین پر یہودیوں کو لا کر بسایا جارہا ہے اور فلسطینیوںکے زمین پر یہودی بستیاں تعمیر ہورہی ہیں اسی طرح مسلم اکثریت کی وادی میں ہندوون کو خاموشی سے آباد کیا جارہا ہے اور اس مقصد کے لیے انہیں زمین اور مکانات کی سہولت کی فراہمی کے ذریعہ نقل مکانی کی ترغیب دی جارہی ہے۔ کشمیر کی خاص حیثیت کے خاتمہ کے بعد اب کشمیر سے باہر سے بھی لوگوں کو وادی میں مکانات خریدنے اور یہاں آباد ہونے پر کوئی قانونی پابندی نہیں رہی ہے۔ نریندر مودی کی حکومت وادی میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے میں اٹل ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں ایک وسیع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس پر بہت جلد عمل شروع کیا جائے گا۔
پچھلے ہفتہ گیمبیانے میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کُشی کا مقدمہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے، گیمبیا کے وزیر انصاف اور اٹارنی جنرل ابو بکر ماری ٹمبا ڈو میانمر کے خلاف فوج کے ہاتھوں کئی ہزار روہنگیاوں کے قتل عام اور سات لاکھ سے زیادہ روہنگیاوں کے اپنے وطن سے جبری انخلا اور کئی ہزار خواتیں کی عصمت دری کے الزامات پر مبنی مقدمہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کریں گے۔ اس مقصد کے لیے گیمبیا نے میانمر کے خلاف سیکڑوں شہادتیں جمع کر لی ہیں جو بین الاقوامی عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ گیمبیا کا یہ اقدام مسلم ممالک کو کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان کی حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے کی راہ دکھا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ مسلم ممالک اپنے اقتصادی اور سیاسی مفادات کا جوا اتار کر مسلم یک جہتی کے اظہار میں دلیری سے کام لیں جو ہندوستان کے محکوم کشمیریوں کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہو۔