سبزیوں اور چاولوں کو ابال کر پانی ضائع نہ کریں

69

یہ رواج تقریباً ہر گھر میں پایا جاتا ہے کہ سبزیوں اور چاولوں کو پانی میں خوب ابالا جائے گا اور بعد مین اس پانی کو بے کار سمجھ کر پھینک دیا جائے گا ، جب کہ اس پانی میں کافی غذائیت حل ہو جاتی ہے خصوصاً وٹامن( بی اور سی ) پانی میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند اقسام کے معدنیات بھی اس پانی میں حل ہو جاتے ہیں یا تو پکاتے وقت اس پانی کو جذب کر دینا چاہیے یا پھر اسے الگ سے سوپ کی شکل میں یا کسی اور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے ۔
چاولوں کے استعمال میں ایک غلطی اور کی جاتی ہے کہ انہیں مشینوں سے صاف کرایا جاتا ہے جسے چاول پر پالش کرنا کہتے ہیں ۔ اس عمل سے چاولون کے اوپر پانی جانے والی باریک پرت ضائع ہو جاتی ہے۔اس پرت میں ہی وٹا م بی پایا جاتا ہے ۔ نتیجتاً چاول خور افراد میں اس وٹا من کی کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور انہیں طرح طرح کے امراض اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ اس ذیل میں ایک تجربہ بھی کیا گیا کہ صاف کیے ہوئے چاول چند یوم تک چریوں کو کھلائے گئے تو انہیں’’ بیری بیری‘‘ ہو گیا اور ان کی ٹانگیں ٹیڑھی ہو گئیں ۔ فوراً ہی انہیں چاول کی اوپری پرت ، جو پالش کرتے وقت جدا کر دی جاتی ہے ، کھلانی شروع کر دی تو وہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو گئیں۔ ایک مخصوص چاول ، جسے ساٹھی کا چاول کہا جاتا ہے اور جو بغیر پالش کیا ہوا ہوتا ہے دوا کے طور پر استعمال کرایاجاتا ہے اور اس کا ابلا ہوا پانی لو بلڈپریشر ، اعصابی دردوں اور سنگ رہنی میں نہایت مفید ثابت ہوتا ہے ۔ ان میں سے بیشتر امراض وٹا من’’ بی ‘‘ کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں ۔