ادب پہلا قرینہ ہے، محبت کے قرینوں میں

56

خلیل الرحمن جاوید

بوقتِ ملاقات ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر پہلا حق ’’سلام‘‘ ہے۔ دنیا کی تمام مہذب قوموں میں ملاقات کے وقت پیار، محبت، جذبۂ اکرام اور خیرسگالی کا اظہار کرنے اور مخاطب کو مانوس ومسرور کرنے کے لیے کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج ہے، مثلاً: ہندو ملاقات کے وقت ’’نمستے‘‘ کہتے ہیں، جبکہ عصرِ حاضر کے بعض روشن خیال اپنے تہذیبی ارتقاء Night Good اور Morning Gooکہہ کر، ’’صبح بخیر‘‘، ’’شب بخیر‘‘ اور ’’آداب عرض‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، سیدنا عمران بن حصینؒ کا بیان ہے کہ قبل از اسلام عرب کی عادت تھی کہ جب وہ ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو ’’حَیَّاکَ اللہ‘‘ (اللہ تم کو زندہ رکھے) ’’انعَمَ اللہْ بِکَ عَینًا‘‘ (اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھ کو ٹھنڈا کرے) ’’اَنعِم صَبَاحًا‘‘ (تمہاری صبح خوش گوار ہو) وغیرہ الفاظ استعمال کیا کرتے تھے، جب ہم لوگ جاہلیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آ گئے تو ہمیں اس کی ممانعت کر دی گئی، یعنی اس کے بجائے ’’اَلسَّلَامْ عَلِیکْم وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتْہ‘‘کی تعلیم دی گئی، جس کے معنی ہیں ’’تم ہر تکلیف اور رنج و مصیبت سے سلامت رہو‘‘۔ لفظ ’’سلام‘‘ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک ہے اور ’’السلام علیکم‘‘ کے معنی ہیں: ’’اللہ تمہارا محافظ ہو، تم پر سلامتی ہو‘‘۔
’’سلام‘‘ کی جامعیت و معنویت
1۔سلام، نہایت جامع دعائیہ کلمہ ہے جو پیار و محبت اور اکرام کے اظہار کے لیے بہترین لفظ ہے اوراس کی کئی معنوی خصوصیات ہیں۔
2 ۔اس کلمے میں صرف اظہارِ محبت ہی نہیں؛ بلکہ حق محبت کی ادائیگی بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ تمام آفات اور آلام سے محفوظ رکھے۔
3۔سلام کرنے والا اپنی زبانِ حال سے اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ تم میرے ہاتھ اور زبان سے مامون و محفوظ ہو۔
4۔یہ کلمہ اپنے سے چھوٹوں کے لیے شفقت، مرحمت اور پیار و محبت کا کلمہ بھی ہے اور بڑوں کے لیے اکرام و تعظیم کا اظہار بھی ہے۔
5۔قرآن مجید میں یہ کلمہ انبیا ورسل علیہم السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال ہوا ہے اوراس میں عنایت اور محبت کا رس بھرا ہوا ہے۔
6۔تمام ایمان والوں کو نماز میں بھی اس لفظ سے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود وسلام بھیجنے کی تلقین کی گئی ہے، جس کا مظاہرہ ہر نمازی التحیات میں کرتا ہے۔
7۔آخرت میں مؤمنین کے جنت میں داخلے کے وقت کہا جائے گا۔
’’جنت میں سلامتی سے ساتھ داخل ہوجاؤ، جو تم نے دنیا میں صبر کیا اس کے بدلے تم پر سلامتی ہو‘‘۔ (معارف الحدیث)