آپ ﷺ کا نجاشی شاہ حبشہ کے نام خط

52

صفی الرحمٰن مبارکپوری

نجاشی کا نام اصحمہ بن ابجر تھا۔ نبیؐ نے اس کے نام جو خط لکھا اسے عمرو بن امیہ ضمریؓ کے بدست 6ھ کے آخر یا 7ھ کے شروع میں روانہ فرمایا۔ طبری نے اس خط کی عبارت ذکر کی ہے۔ لیکن اسے بنظر غائر دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وہ خط نہیں ہے جسے رسول اللہؐ نے صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا بلکہ یہ غالباً اس خط کی عبارت ہے جسے آپؐ نے مکی دور میں جعفرؓ کو ان کی ہجرت حبشہ کے وقت دیا تھا۔ کیوں کہ خط کے آخر میں ان مہاجرین کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
’’میں نے تمہارے پاس اپنے چچیرے بھائی جعفر کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کیا ہے جب وہ تمہارے پاس پہنچیں تو انہیں اپنے پاس ٹھہرانا اور جبر اختیار نہ کرنا‘‘۔
بیہقی نے ابن عباسؓ سے ایک اور خط کی عبارت روایت کی ہے۔ جسے نبیؐ نے نجاشی کے پاس روانہ کیا تھا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:
’’یہ خط ہے محمد نبی کی طرف سے نجاشی اصحم شاہ حبش کے نام!
اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس نے نہ کوئی بیوی اختیار کی نہ لڑکا، اور (میں اس کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ) محمد اس کا بندہ اور رسول ہے، اور میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں کیوں کہ میں اس کا رسول ہوں، لہٰذا اسلام لاؤ سلامت رہو گے۔ اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے تمہارے درمیان موجود ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے بعض بعض کو اللہ کے بجائے رب نہ بنائے۔ پس اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔ اگر تم نے (یہ دعوت) قبول نہ کی تو تم پر اپنی قوم کے نصاریٰ کا گناہ ہے‘‘۔
ڈاکٹر حمیداللہ صاحب (پاریس) نے ایک اور خط کی عبارت درج فرمائی ہے جو ماضی قریب میں دستیاب ہوا ہے اور صرف ایک لفظ کے اختلاف کے ساتھ یہی خط علامہ ابن قیم کی کتاب زادالمعاد میں بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس خط کی عبارت کی تحقیق میں بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ دور جدید کے انکشافات سے بہت کچھ استفادہ کیا ہے اور اس خط کا فوٹو کتاب کے اندر ثبت فرمایا ہے۔
اس خط کا ترجمہ یہ ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محمد رسول اللہ کی جانب سے نجاشی عظیم حبشہ کے نام
’’اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! میں تمہاری طرف اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو قدوس اور سلام ہے۔ امن دینے والا محافظ و نگران ہے۔ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ اللہ نے انہیں پاکیزہ اور پاک دامن مریم بتول (علیہ السلام) کی طرف ڈال دیا۔ اور اس کی روح اور پھونک سے مریم (علیہ السلام) عیسیٰ کے لیے حاملہ ہوئیں۔ جیسے اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ میں اللہ وحدہ لا شریک لہ کی جانب اور اس کی اطاعت پر ایک دوسرے کی مدد کی جانب دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی طرف (بلاتا ہوں) کہ تم میری پیروی کرو اور جو کچھ میرے پاس آیا ہے اس پر ایمان لاؤ کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں تمہیں اور تمہارے لشکر کو اللہ عزوجل کی جانب بلاتا ہوں، اور میں نے تبلیغ و نصیحت کر دی لہٰذا میری نصیحت قبول کرو، اور اس شخص پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے‘‘۔
ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے بڑے یقینی انداز میں کہا ہے کہ یہی وہ خط ہے جسے رسول اللہؐ نے صلح حدیبیہ کے بعد نجاشی کے پاس روانہ فرمایا تھا۔ جہاں تک اس خط کی استنادی حیثیت کا تعلق ہے تو دلائل پر نظر ڈالنے کے بعد اس کی صحت میں کوئی شبہہ نہیں رہتا لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ نبیؐ نے صلح حدیبیہ کے بعد یہی خط روانہ فرمایا تھا، بلکہ بیہقی نے جو خط ابن عباسؓ کی روایت سے نقل کیا ہے اس کا انداز ان خطوط سے زیادہ ملتا جلتا ہے جنہیں نبیؐ نے حدیبیہ کے بعد عیسائی بادشاہوں اور امرا کے پاس روانہ فرمایا تھا، کیونکہ جس طرح آپؐ نے ان خطوط میں آیت کریمہ ’’یا اھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء‘‘ درج فرمائی تھی، اسی طرح بیہقی کے روایت کردہ خط میں بھی یہ آیت درج ہے۔ علاوہ ازیں اس خط میں صراحتاً اصحمہ کا نام بھی موجود ہے۔ جبکہ ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کے نقل کردہ خط میں کسی کا نام نہیں ہے۔ اس لیے میرا گمان غالب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا نقل کردہ خط در حقیقت وہ خط ہے جسے رسول اللہؐ نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا اور غالباً یہی سبب ہے کہ اس میں کوئی نام درج نہیں۔
اس ترتیب کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد صرف وہ اندرونی شہادتیں ہیں جو ان خطوط کی عبارتوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ البتہ ڈاکٹر حمیداللہ صاحب پر تعجب ہے کہ موصوف نے ادھر ابن عباسؓ کی روایت سے بیہقی کے نقل کردہ خط کو پورے یقین کے ساتھ نبیؐ کا وہ خط قرار دیا ہے جو آپؐ نے اصحمہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین کے نام لکھا تھا حالانکہ اس خط میں صراحت کے ساتھ اصحمہ کا نام موجود ہے۔
بہرحال جب عمرو بن امیہ ضمریؓ نے نبیؐ کا خط نجاشی کے حوالے کیا تو نجاشی نے اسے لے کر آنکھ پر رکھا، اور تخت سے زمین پر اتر آیا اور جعفر بن ابی طالبؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور نبیؐ کی طرف اس بارے میں خط لکھا جو یہ ہے:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘
محمد رسول اللہ کی خدمت میں نجاشی اصحمہ کی طرف سے
’’اے اللہ کے نبی آپؐ پر اللہ کی طرف سے سلام اور اس کی رحمت اور برکت ہو۔ وہ اللہ جس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اما بعد:
اے اللہ کے رسولؐ مجھے آپ کا گرامی نامہ ملا، جس میں آپؐ نے عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ ذکر کیا ہے۔ خدائے آسمان و زمین کی قسم آپؐ نے جو کچھ ذکر فرمایا ہے سیدنا عیسیٰ اس سے ایک تنکا بڑھ کر نہ تھے۔ وہ ویسے ہی ہیں جیسے آپؐ نے ذکر فرمایا ہے۔ پھر آپؐ نے جو کچھ ہمارے پاس بھیجا ہے ہم نے اسے جانا اور آپ کے چچیرے بھائی اور آپؐ کے صحابہؓ کی مہمان نوازی کی اور میں شہادت دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے سچے اور پکے رسول ہیں اور میں نے آپؐ سے بیعت کی۔ اور آپؐ کے چچیرے بھائی سے بیعت کی اور ان کے ہاتھ پر اللہ رب العالمین کے لیے اسلام قبول کیا۔
نبیؐ نے نجاشی سے یہ بھی طلب کیا تھا کہ وہ جعفرؓ اوردوسرے مہاجرین حبشہ کو روانہ کر دے۔ چنانچہ اس نے عمرو بن امیہ ضمریؓ کے ساتھ دو کشتیوں میں اس کی روانگی کا انتظام کر دیا۔ ایک کشتی کے سوار جس میں حضرت جعفر اور ابو موسیٰ اشعری اور کچھ دوسرے صحابہؓ تھے، براہ راست خیبر پہنچ کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور دوسری کشتی کے سوار جن میں زیادہ تر بال بچے تھے سیدھے مدینہ پہنچے۔ مذکورہ نجاشی نے غزوہ تبوک کے بعد رجب 9 ھ میں وفات پائی۔ نبیؐ نے اس کی وفات ہی کے دن صحابہ کرام کو اس کی موت کی اطلاع دی اور اس پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ اس کی وفات کے بعد دوسرا بادشاہ اس کا جانشین ہو کر سریر آرائے سلطنت ہوا تو نبیؐ نے اس کے پاس بھی ایک خط روانہ فرمایا لیکن یہ نہ معلوم ہو سکا کہ اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں۔