شروع کس نے کیا تھا

124

مولانا فضل الرحمن کا دھرنا جاری ہے۔ اہل دھرنا پشاور چوک تک محدود ہیں۔ ریڈ زون جانے کا تصور بھی مولانا کے حاشیہ خیال میں موجود نہیں۔ دھرنے کا توڑ کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو دال، چاول اور آٹا مفت دینے کا اعلان کیا ہے۔ لنگر خانے کے بعد راشن خانہ اسکیم پر بھی ناقدین چیں پٹاخ کر رہے ہیں کہ لیجیے ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھروں، مرغی، انڈوں، کٹوں، لنگر خانوں کے پکے پکائے کھانوں سے گزرتا ہوا معاملہ کچے اناج تک آگیا ہے۔ لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔ عمران خان پٹھان ہیں۔ اس پر ایک واقعہ سن لیجیے:
کئی ہفتے پہلے کی بات ہے۔ ہم کہیں جارہے تھے۔ بیگم بھی ساتھ تھیں۔ نرسری پل سے اتر کر ذرا آگے بڑھے ہی تھے کہ بیگم نے زور سے کہا ’’گاڑی روکیں، گاڑی روکیں‘‘۔ ہم نے جھنجلاتے ہوئے پوچھا ’’کیا بات ہے‘‘۔ بو لیں ’’وہ دیکھیے پٹھان کے پاس کتنا اچھا سینٹرل پیس ہے۔ ڈرائنگ روم کے کارپٹ سے کتنا میچ کررہا ہے‘‘۔ ہم نے گاڑی ریورس کرتے ہوئے غور سے دیکھا تو سڑک کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پٹھان دکاندار قالین بیچتے نظر آئے۔ بیگم کے بتائے ہوئے دکاندار کے پاس گاڑی روکی۔ قالین دیکھا واقعی اچھا تھا۔ بیگم نے سوالیہ نظروں سے ہماری طرف دیکھا۔ ہم نے گردن سے اشارہ کیا کہ اچھا ہے خرید لو۔ اتنی دیر میں پٹھان سینٹرل پیس پوری طرح کھول چکا تھا۔ اس کی پریزنٹیشن کمال کی تھی۔ بیگم نے پوچھا ’’ہاں خان بھائی! کتنے کا دوگے۔ دیکھو زیادہ مت بتانا۔ ہم لینے والے ہیں‘‘۔ سوال بیگم نے کیا تھا لیکن خان نے مسکراتے ہوئے ہماری طرف دیکھا پھر بیگم سے سنجیدگی سے بولا ’’باجی ام کو پتا ہے تم لینے والا ہے۔ ہم تم کو جائز دام بتائے گا۔ یہ ایرانی قالین ہے۔ دکان پر 25ہزار سے کم نہیں ہے لیکن ام تم کو 20ہزار کا دے گا‘‘۔ بیگم نے ناراضی سے کہا ’’کیا بات کرتے ہو خان! یہ بیس ہزار کا ہے؟‘‘ خان جلدی سے بولا ’’باجی نراض نہیں ہو۔ ابی بھائی صاب بھی تمہارے ساتھ ہے۔ تم کتنے کا لے گا‘‘۔ بیگم بولیں
’’یہ چھوڑو ہم کتنے کا لے گا تم بو لو تمہارا آخری دام کیا ہے‘‘۔ پٹھان نے پھر ہماری طرف دیکھا اور سوچتے ہوئے بولا ’’باجی ام تم کو ایک دام بتائے گا پھر کم نئیں کرے گا۔ ام آخری دام پندرہ ہزار لگائے گا‘‘۔ بیگم نے ہماری طرف دیکھا اور بو لیں ’’چلیں، اس کو بیچنا نہیں ہے‘‘۔ پٹھان جلدی سے بولا ’’باجی نراض نئیں ہو، اچھا ام تم کو خرید دام بولے گا پھر تمارا مرضی ہے۔ دس ہزار کا لے گا؟‘‘ بیگم نے منہ بدستور ہماری طرف کیے رکھا۔ بو لیں ’’چلیں، پھر کبھی خرید لیں گے‘‘۔ پٹھان بو لا ’’اچھا باجی تم بولو کتنے کا خریدے گا۔ دیکھو جائز دام بو لنا۔ ابی بھائی صاحب بھی تمارے ساتھ ہے‘‘۔ بیگم بولیں ’’خان صاب ہم ایک دام پانچ ہزار دیں گے۔ بولو دینا ہے‘‘۔ خان بولا ’’باجی قسم خدا کا امارا خرید بی نئیں ہے۔ صحیح دام بولو۔ ام دے دے گا‘‘۔ بیگم نے لاپروائی سے کہا ’’خان تمہاری مرضی ہے۔ وارے میں نہیں ہے تو رہنے دو‘‘۔ خان بولا ’’اچھا باجی پھر ام بی ایک دام بولے گا۔ کم نئیں کرے گا۔ ایک دام سات ہزار کا ہے۔ ابی ہاں یا نئیں بولو‘‘۔ بیگم بو لیں ’’خان رہنے دو۔ ابھی ہمیں دیر ہورہی ہے۔ پھر خرید لیں گے‘‘۔ خان نے پھر ہماری طرف دیکھا اور بیگم سے بولا ’’بوت ضدی اے میرا بین، چلو نکالو‘‘۔ بیگم ہماری طرف مڑیں۔ ہم نے ہزار ہزار کے پانچ نوٹ ان کی طرف بڑھادیے۔ انہوں نے ایک نوٹ ہماری طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’آپ بھی نابس۔ اسے رکھیں‘‘۔ ہم نے حیرت سے دیکھتے ہوئے ہزار کا نوٹ بیگم کے ہاتھ سے واپس لے لیا۔ بیگم خان کی طرف مڑیں اور بولیں ’’خان بھائی رہنے دو۔ ابھی پیسے پورے نہیں ہیں۔ چار ہزار ہیں‘‘۔ خان بولا ’’چلو باجی رہنے دو۔ کوئی بات نئیں۔ بعد میں لے جانا۔ ام ادھر ای کھڑا ہوتا ہے‘‘۔ بیگم مڑیں تو خان بولا ’’اچھا باجی ایسا کرو ایک ہزار پھر دے جانا‘‘۔ بیگم بو لیں ’’نہیں خان بھائی رہنے دو کل کا کیا پتا۔ زندہ رہیں نہ رہیں‘‘۔ خان بولا ’’چلو باجی چار ہزار دے دو۔ کوئی بات نئیں۔
میڈیا پر دھرنے کے شرکاء کی تعداد کے بارے میں ابتدا میں الگ الگ پیش گوئیاں کی جارہی تھیں۔ اب سب کا اتفاق ہے کہ دھرنے کے شرکاء کی تعداد اتنی ہے کہ اگر پھو نکیں ماریں تو اسموگ واپس انڈیا کی طرف پلٹ جائے۔ ویسے تو مولانا فضل الرحمن غضب کے مقرر ہیں۔ لوہے کو سونا ثابت کردیں۔ لیکن ہمارے خیال میں انہیں عمران خان کے بجائے عثمان بزدار کے استعفے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ آدھی تحریک انصاف دھرنے میں آجائے گی۔ جب سے مولانا نے دھرنا آغاز کیا ہے حکومت کے رانڈ رونے قابل دید ہیں۔ کبھی کشمیر کے پس منظر میں چلے جانے کی دہائی دی جارہی ہے تو کبھی معیشت کی بد حالی کی۔ عمران خان سے کوئی پوچھے حضور دھرنے شروع کس نے کیے تھے۔ ایک سردار جی ایک معمولی سی کمپیوٹر جاب کے لیے نوجوان کا انٹرویو کررہے تھے۔ انٹرویو کے دوران سردار جی نے لڑکے سے پوچھا ’’آپ کتنی سیلری امید کررہے ہو؟‘‘ امیدوار کا جواب سن کر سردار جی کی آنکھیں باہر آگئیں۔ امیدوارنے ایک لاکھ روپے مہینہ کا مطالبہ کیا تھا۔ سردار جی بولے ’’ٹھیک ہے۔ اگر ساتھ میں ایک فرنشڈ گھر بھی ہو تو‘‘ امیدوار چونک کر بولا ’’زبردست‘‘ سردار جی بولے ’’اور اگر ایک نئے ماڈل کی کار بھی ہوتو‘‘ امیدوار اچھل پڑا۔ سردار جی نے اس پر بھی بس نہیں کیا اور بولے ’’سال میں اگر دو مہینے کی چھٹیاں بھی ہوں تو‘‘۔ امیدوار کو غش آنے لگے۔ بولا ’’سر آپ مذاق تو نہیں کررہے؟‘‘ سردار جی ’’پتر یہ مذاق شروع کس احمق نے کیا تھا‘‘۔
عمران خان سے آپ لاکھ اختلاف کریں لیکن ایک بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ انہوں نے آج تک جو کہا وہ کیا نہیں۔ انہوں نے کہا تھا کرکٹ کو میں ایسا ٹھیک کروں گا کہ۔ دیکھ لیجیے کیسا ٹھیک کیا ہے۔ سیریز پر سیریز ہار رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے نواز شریف کا جیل سے تابوت آنے کی بات کی گئی تھی۔ تابوت تو نہیں آیا نواز شریف خود باہر آگئے۔ یہ کینہ پرور اونٹ کس پہاڑ کے نیچے آیا ہے۔؟ ان شااللہ تفصیل سے بات کریں گے۔ آخر میں کرتارپور راہداری۔ ہم نے کرتارپور کے راستے ڈھیروں ڈھیر سکھ تو بھارت سے منگوالیے لیکن کشمیر کے معاملے میں ہم نے بھارت کی طرف ایک گولی فائر نہیں کی۔ ایک ایک پستول اور ایک ایک گولی چھپا کر، بچاکر، رکھی ہوئی ہے۔ اس پر بھی ایک لطیفہ سن لیجیے۔ ایک سردار جی اپنے دوست کے ساتھ سنسان راستے جھومتے جھامتے جارہے تھے۔ ایک لٹیرے نے روک لیا۔ لٹیرے نے تیز دھار خنجر لہراتے ہوئے کہا ’’جو کچھ بھی جیب میں ہے نکال دو ورنہ تمہارا وہ حال کردوں گا جو دھرنے والے حکومت کا کرتے ہیں‘‘۔ سردار جی نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا اور سب کچھ نکال کر لٹیرے کے حوالے کردیا۔ لٹیرا سردار جی کی اس فرماںبرداری پر حیران تھا۔ اسے امید تھی سردار جی آسانی سے قابو میں نہیں آئے گا۔ سردار جی یوں آسانی سے قابو میں آگئے تو لٹیرے کو سردارجی کے دوست سے خطرہ پیدا ہوگیا۔ اس نے دوست کی طرف خنجر لہرانا شروع کردیا۔ سردار جی نے لٹیرے سے کہا ’’اوئے اس کی فکر نہ کر۔ اسے پتا ہے تیری طرف ایک گولی بھی فائر کرنا اس وقت میرے ساتھ اس سے بڑی دشمنی کوئی نہیں ہوسکتی‘‘۔ لٹیرا بے خطر لٹی ہوئی دولت لے کر بھاگ گیا۔ جب سردار جی کو اطمینان ہوگیا کہ اب لٹیرا دوبارہ نہیں آئے گا تو اس نے ایک قہقہہ لگایا۔ دوست کے کاندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے اندرونی جیب سے پستول نکالتے ہوئے کہا ’’یہ دیکھ، ولایتی پستول ہے۔ نیا لیا ہے۔ میں نے لٹیرے کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنے دی‘‘۔
نوٹ: معزز قارئین سردارجی کے رویے میں پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کا عکس تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بصورت دیگر ساری ذمے داری آپ کی ہوگی۔