ریاست مدینہ کا خواب جلد پورا ہوگا۔ صدر نوجوان سیرت رسول ﷺ اپنائیں ، وزیر اعظم

17

 

اسلام آباد (اے پی پی +صباح نیوز) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں قرآن اور اسوہ حسنہ کا آئین تھا،علما اور ائمہ کرام نے دنیا کو بدل دیا اور اسی پلیٹ فارم سے پاکستان مدینے کی ریاست بنے گی،بھارت میں تمام اقلیتیں دبائو کا شکار ہیں،آج مقبوضہ کشمیر کی حالت دنیا کے سامنے ہے، مدینے کی ریاست کی گردان کا مقصد یہ خواہش ہے کہ اس منزل کی طرف جائیں جو نبی ؐ نے ہمیں دکھائی ہے اور اس کے راستے میں رکاوٹیں دور ہوں،انصاف، عورتوں کے حقوق، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، مسلمانوں کے دکھ دردکو بانٹنے کا نام ریاست مدینہ ہے اور ہم مرحلہ وار اس جانب بڑھ رہے ہیں ، آہستہ آہستہ قانون سازی اور اس پر عملدرآمد سے ریاست مدینہ کے خواب کی تکمیل ہوگی۔ جشن میلاد النبی کے موقع پر منعقدہ عالمی رحمتہ اللعالمین کانفرنس سے کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ 1997ء میں عمران خان نے کہا تھاکہ پاکستان کا تصور ریاست مدینہ سے شروع ہوتا ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا، عمران خان ریاست مدینہ پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں
عورتوں کو مکمل حقوق حاصل تھے جبکہ یورپ میں اب ان حقوق کی بات کی جاتی ہے۔اسلام نے ان حقوق کی پیروی نہ کرنے والوں کو جہنمی قرار دیا،یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم عورتوں کو ان کے حقوق دیں، اس ضمن میں علما کردار ادا کریں۔ رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے تعلیمی نظام تبدیل کرنے کا اعلان کیا اورکہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بچے بچے کو علم ہو کہ حضور اکرمؐ نے معاشرے کو کیسے تبدیل کیا۔ تعلیمی نظام میں نبی ؐکی جدوجہد پر روشنی ڈالیں گے۔قوم کو عظیم بننا ہے تو نبی ؐ کی سیرت پر چلنا ہوگا،نوجوان حضور اکرمؐ کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں،عمران خان نے کہا کہ زندگی کے تجربات میں اسوہ کامل ؐکو ہی بہترین پایا، ان کی زندگی تاریخ کا حصہ ہے اور ہم اس کا آسانی سے مطالعہ کرسکتے ہیں۔ نبی ؐکی زندگی پر یونیورسٹیوں میں ریسرچ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ پر زور دینا میری زندگی کا تجربہ ہے حالانکہ میں نے اپنی زندگی مغرب میں کرکٹ کھیلتے ہوئے گزاری۔عمران خان نے کہا کہ مسلمان گھر میں پیدا ہوکر مسلمان کہلانا کافی نہیں، ہمیں اپنے بچوں کو تاریخ کا مطالعہ کرانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے بار بار کہا کہ ریاست مدینہ کے اصولوں سے دور ہوکر مسلمان پست ہوجاتا ہے، اسی بنیاد پر مسلمان صدیوں تک دنیا پر چھائے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے کرپٹ مافیا بیٹھا ہوا ہے، ہمارا کام ان کو شکست دے کر ملک کی صلاحیتیں بڑھانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا کام قوم کو مقروض کرنے والوں کو معاف کرنا نہیں، نبی کریمؐنے کرپشن کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دیں، رحم کمزور اور پسے ہوئے طبقے کے لیے ہوتا ہے، بڑے بڑے ڈاکوئوں کے لیے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان اوپر اٹھے گا، ہم خیرات سب سے زیادہ دیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکس نہیں دیتے تو ملک کیسے چلائیں گے؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر اسلامی چینل بنانے کا فیصلہ کیاہے۔علاوہ ازیں ایک ٹیویٹ میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاست مدینہ کی بنیاد 4جدید اصولوں پر رکھی جس میں قانون کی حکمرانی،انسانی حقوق، شفقت اور میرٹ شامل تھا۔عمران خان نے کہا کہ حضورؐ کے رہنما اصولوں پر چلنے والی ریاست دنیا میں چھا جائے گی۔
وزیراعظم