فرانس میں اسلامو فوبیا کے خلاف ملک گیر مارچ

50
فرانس: مقامی مسلمان اسلاموفوبیا کے خلاف ریلی نکال رہے ہیں
فرانس: مقامی مسلمان اسلاموفوبیا کے خلاف ریلی نکال رہے ہیں

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت کئی شہروں میں ہزاروں افراد نے یورپ میں مسلمانوں کو اسلامو فوبیا کے تحت ہدف بنائے جانے کے واقعات کے خلاف مارچ کیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے ان مارچوں میں بارش کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مارچ میں شریک ایک شہری محمد نے بتایا کہ مسلمانوں کو شدت پسند رویوں کا سامنا رہتا ہے۔ ہم پوری طرح اس معاشرے میں خود کو ضم محسوس کرتے ہیں، لیکن ہمیں شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ نوکری کے لیے انٹرویو سے لے کر کسی بھی فرانسیسی روایتی عمل کا حصہ بننے تک ہر جگہ اپنا نام تبدیل کر لو۔ آئی ایف او پی کی ایک نئی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر 10 میں سے 4 مسلمان سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مذہب کی وجہ سے تفریق روا رکھی جاتی ہے۔ ایک اور سروے کے مطابق 60 فیصد ایسے افراد جن سے سوالات کیے گئے، سمجھتے ہیں کہ اسلام فرانسیسی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ فرانس میں مسلمانوں پر حملے کوئی نئی بات نہیں رہی۔ حالیہ دنوں میں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات کے سبب ہی مسلمانوں نے اس مارچ کا اہتمام کیا ہے۔ گزشتہ ماہ 2 مسلمان شہری گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے تھے۔ ان پر یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب وہ فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں ایک مسجد سے باہر آ رہے تھے۔ فرانس کی قدامت پسند سینیٹ نے ایک بل میں ترمیم منظور کی ہے، جس کے تحت مسلمان خواتین کو نقاب کے ساتھ اپنے بچوں کے اسکول کے بیرونی دوروں میں ساتھ جانے سے روکا گیا ہے۔ فرانس میں اس مارچ کو کے خلاف بائیں بازو کے کئی سیاست دان سرگرم بھی رہے اور اسے رکوانے کے لیے زور لگاتے رہے۔