بابری مسجد فیصلے کے بعد 77 افراد گرفتار

34

لکھنؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں بابری مسجد کا متنازع فیصلہ سامنے آنے پر حکومت نے سماجی ذرائع ابلاغ پر بھی نگرانی کا گھیرا تنگ کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بھارتی حکام نے ریاست اترپردیش میں فیس بک، ٹوئٹر اور یو ٹیوب جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار خیال پر قدغنیں عائد کردیں اور مذہبی ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہونے کے نام پر 77افراد کو حراست میں لے لیا۔ متعلق حکام نے 8ہزار 275 پوسٹوں کے خلاف کارروائی کی اور کئی اکاؤنٹ بند کرادیے گئے۔ اس سلسلے میں ٹوئٹر کی 2ہزار 869 اور فیس بک کی 1355پوسٹیں ختم کی گئیں،جب کہ یوٹیوب پر سے 98وڈیوز ہٹائی گئیں۔ خیال ر ہے کہ بھارتی عدالت عظمیٰ کی جانب سے ہفتے کے روز بابری مسجد کے مقدمے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس پر کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے سیکولر تشخص اور مذہبی آزادیوں کے پس منظر میں اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس فیصلے سے کروڑوں مسلمان خود کو غیر محفوظ خیال کرنے لگے ہیں۔ دوسری طرف قانونی ماہرین عدالت کی جانب سے بابری مسجد شہید کرنے والوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے پر حیرت زدہ ہیں۔ جن لوگوں نے مسجد شہید کرنے کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، ان کو قرار واقعی سزا دینے سے متعلق عدالت نے کچھ نہیں کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے سمجھ آتا ہے کہ ملک کے اندر جو طرز حکمرانی کا مجموعی مزاج کیا ہے اور اس کا رنگ ہر جگہ جھلکتا ہے۔ امریکا کی نارتھ ٹیکساس یونیورسٹی کے بھارتی پروفیسر وقار احمد کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ دیکھنا یہی تھا کہ آیا عدالت عظمی سیکولرازم کو تھامے رکھ پائے گی یا نہیں؟ پر وہ نہیں کر پائے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے مسجد شہید کرنے والوں ہی کو رام مندر بنانے کی اجازت دے دی ہے۔