کرنٹ سے ہلاکتوں کی وجہ قدرتی آفت ہے‘ کے الیکٹرک کاعدالت میں جواب

42

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی درخواست پر سماعت کی ، کے الیکٹرک نے بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے شہریوں کی ہلاکت کو قدرتی آفت قرار دے دیا ۔سندھ ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمن نے عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی تھی جس میں گزشتہ دنوں بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے کا ذمے دار کے الیکٹرک کو قرار دیا گیا تھا ،درخواست کے جواب میں کے الیکٹرک نے جواب عدالت میں جمع کرایا جس میں کے الیکٹرک نے بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے شہریوں کی ہلاکت کو قدرتی آفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں،کراچی میں حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر نیپرا نے ایکشن لیا ہے،نیپرا نے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا ہے، کے الیکٹرک کے پولز اور بجلی کے تار معیاری ہیں، کے الیکٹرک کے پولز سے غیر قانونی کنکشن،اسٹریٹ لائٹس اور کیبل ٹی وی کے تار بھی غیر قانونی طور پر لگا دیے ہیں،درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن کی درخواست ناقابل سماعت ہے،درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق سے 5 دسمبر کو جواب الجواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔