الیکٹرونک ووٹنگ نظام پر15ارب سے زاید لاگت آئے گی‘حکومت

30

اسلام آباد(صباح نیوز+اے پی پی) گزشتہ روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں الیکٹرونک ووٹنگ کے سسٹم پر 15 ارب روپے سے زیادہ کی لاگت آئے گی، وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ متبادل توانائی سے 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرینگے۔ اسپیکر نے ٹڈی دل حملے کے نقصان پر متعلقہ وزیر اور سیکرٹری کو طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام(ف) کی رکن شاہدہ اختر علی کے سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور محمد اعظم خان سواتی کی طرف سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ آزمائشی پروجیکٹ پر مجموعی طورپر19 کروڑ روپے کے اخراجات آئے تھے ،رپورٹ تمام ارکان پارلیمنٹ کو ارسال کردی گئی تھی۔ الیکٹرونک ووٹنگ، پائلٹ پروجیکٹ پر عملدرآمد کے لیے نادرا کے حوالے کردیا ہے ، سسٹم کو اگر ملک بھر میں لاگو کرنے پرغور کیا جائے تو لاگت 15 ارب روپے سے زاید ہے۔ عام انتخابات میں الیکٹرونک ووٹنگ کے لیے اراکین پارلیمان کی آراء کا انتظار کیا جارہا ہے ، سیاسی جماعتوں کے اگر کچھ تحفظات یا شکایات ہیں تو الیکشن کمیشن آف پاکستان قانون کے مطابق ان پر غور کرے گا۔علاوہ ازیںوقفہ سوالات کے دوران توانائی ڈویژن کے وزیر عمر ایوب خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت 2025ء تک متبادل توانائی سے 8ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کریگی۔ان کا کہنا تھا کہسستی بجلی کی تیاری کے لیے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے 11 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں صارفین کو مناسب نرخوں پر بجلی کی فراہمی کے لیے مقامی وسائل سے تقریبا 85فیصد بجلی پیداکی جائے گی۔ مزید برآں دوران اجلاس نکتہ اعتراض پر نواب محمد یوسف تالپور، غوث بخش مہر اور رائو محمد اجمل خان نے آواز ٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ٹڈی دل پر قابو نہ پایا جاسکا تو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔ بھارت سے ٹڈی دل پاکستان داخل ہوئی۔ اب یہ سندھ سمیت بلوچستان میںد اخل ہو رہی ہے۔ میلاتھون دوائی کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے ورنہ سبزیاں اور فصلیں تباہ ہو جائیں گی۔ سپیکر نے ہدایت کی کہ فوری طور پر قائمہ کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس طلب کیا جائے۔ اسپیکر نے سیکرٹری قومی اسمبلی کو ہدایت کی کہ وزارت غذائی تحفظ کے وزیر اور سیکرٹری سمیت زراعت کی ذیلی کمیٹی کو (آج) منگل 11 بجے طلب کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بازیافت پشتی رہن ضمانتیں آرڈیننس 2019ء کی مدت میں مزید 4 ماہ کی توسیع کے لیے قرارداد کی منظوری دے دی۔ ٹیکس لاز ترمیمی آرڈیننس مجریہ 2019 اور ضابطہ دیوانی کے ترمیمی بل 2019 ء بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ کورم پورا نہ ہونے کے باعث ایوان کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب جمعرات کو دن 11 بجے ہو گا۔