قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

76

وہ عرض کریں گے ’’پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولا بنائیں مگر آپ نے اِن کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے‘‘۔ یوں جھٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری اْن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو، پھر تم نہ اپنی شامت ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ اے محمدؐ، تم سے پہلے جو رسول بھی ہم نے بھیجے ہیں وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے۔ (سورۃ الفرقان:18تا20)
ام المؤمنین عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے اور قبر کے فتنہ اور اس کے عذاب سے اور مالداری و فقیری کے فتنے کی برائی سے اور مسیح الدجال کے فتنے کی برائی سے اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو ڈال اور میرے دل کو گناہوں سے پاک و صاف کر دے، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جس طرح تونے پورب اور پچھم کے درمیان دوری کی ہے اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی، بڑھاپے، گناہ اور قرض سے‘‘۔ (ابن ماجہ)