نوازشریف کے ای سی ایل کا معاملہ حکومت خود دیکھے‘ نیب

78

لاہور(نمائندہ جسارت)قومی احتساب بیورو نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ حکومت خود دیکھے۔ پیر کو نیب نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزارت داخلہ کو جواب بھیج دیاجس میں کہا گیا کہ میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لے لیا ہے، وفاقی حکومت کو سفارش کرتے ہیں کہ فیصلہ خود کرے۔نیب کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت صوابدیدی اختیار کے تحت نوازشریف کی درخواست پر فیصلہ کرے، مختلف کیسز میں وفاقی حکومت پہلے بھی صوابدیدی اختیار استعمال کرچکی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سرکاری میڈیکل بورڈ نواز شریف کو علاج کے لیے فوری باہر بھیجنے کی سفارش کرچکا ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے ان کی لندن روانگی کا ٹکٹ منسوخ کردیا گیا ہے ۔اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک ہے، ان کے پلیٹ لیٹس سیلز میں کمی بدستور جاری ہے،انہیں مرکزی لندن کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرانے کے انتظامات مکمل ہیں، جہاں ان کی طبی ٹیم کو بھی تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔لندن میں موجود پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف کو اسی اسپتال میں داخل کروانے کے انتظامات کیے گئے ہیں جہاں وہ ماضی میں بھی زیرِ علاج رہ چکے ہیں۔ترجمان (ن) لیگ مریم اورنگزیب نے ایک بیان مین بتایا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک لے جانے والی ائر ایمبولینس بدھ کو پہنچے گی، ڈاکٹروں نے نواز شریف کی نازک صحت دیکھتے ہوئے ائر ایمبولینس کا انتظام کرنے کو کہا ۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق ڈاکٹروں کی تشویش بڑھتی جا رہی ہے جب کہ نام ای سی ایل سے نکالنے میں تاخیر زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ، کسی بھی حادثے کی صورت میں نوازشریف کو بیرون ملک منتقل کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق گزرتے وقت کے ساتھ سابق وزیراعظم کی زندگی کے لیے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔دوسری جانب وفاقی وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے میں ذیلی کمیٹی کا اجلاس آج منگل کو طلب کر لیا ہے۔وزات داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منگل کی صبح 10 بجے ہوگا۔ ذیلی کمیٹی نے اس سلسلے میں فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار شہباز شریف یا ان کے نمائندے پیش ہوں جبکہ نیب کو بھی اپنا نمائندہ بھیجنے کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔وزارت داخلہ نے فریقین کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ کمیٹی میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ نوٹس میں پنجاب حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے میڈیکل بورڈ اور سیکرٹری صحت پنجاب کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمودایاز نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے پر دی جانے والی رپورٹ ہی حتمی ہے۔