کشمیرکی خاطر عوام کا سمندر اسلام آباد لے کر آئیںگے،سینیٹر سراج الحق

112
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق آزاد جموں وکشمیر وگلگت بلتستان کے 46ویں جنرل کونسل اجتماع سے خطاب کررہے ہیں
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق آزاد جموں وکشمیر وگلگت بلتستان کے 46ویں جنرل کونسل اجتماع سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ کشمیرکی خاطر حکمرانوں کو جگانے کے لیے 22دسمبر کو عوام کا سمندر لے کر اسلام آباد آئیںگے،اسلام آباد کے درودیوار ہلائیںگے،دہلی کا جواب اسلام آباد سے دیںگے۔ کشمیریوں کی چیخیں پوری دنیا سن رہی ہے مگر اسلام آباد میں براجمان حکمران قبرستا ن کی سی خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے بہادر اور غیور عوام پاکستان کی سلامتی سے کھیلنے والوں کا بوریا بستر گول کردیںگے۔ وزیراعظم اور ان کی پوری ٹیم نظریہ پاکستان سے نابلد ہے قوم کو دھوکا دیا جارہاہے۔ حکمران کشمیر کی آزادی ، معاشی اصلاح اور عوام کو انصاف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر اور گلگت و بلتستان کے 46ویں سالانہ جنرل کونسل کے اجتماع خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان مودی سے مطالبہ کر رہا ہے کہ کشمیر میںانصاف کریں جس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم نے مودی کو مسئلہ کشمیر پر منصف تسلیم کرلیا ہے ۔ بزدل حکمرانوں کے باعث نریندر مودی نہ صرف کشمیر کو ہڑپ کر نے کی سازش کر رہاہے بلکہ مظفر آباد اور اسلام آباد کی جانب بڑھ رہاہے ۔ حکمران اسلام آباد کے گر م کمروں میں بیٹھ کر ٹیپو سلطان بننے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یوم اقبال پر کرتارپور کا افتتاح ہورہاتھا اور بھارتی عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا فیصلہ دے دیا ۔موجودہ حکومت کے 14 مہینے ناکامیوں کی ایک داستان ہے ۔ حکمرانوں نے ہر وہ کام کیا جس کا انتخابات سے پہلے کبھی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور عوام کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنان کو بھی مایو س کردیا ۔ حکومت کو مینڈیٹ تبدیلی کے لیے ملا تھا لیکن تبدیلی آرہی ہے تو روپے کی قدر میں کمی، معیشت تباہ ، خارجہ پالیسی ناکام ، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے ۔ ڈاکٹرز ہڑتال پر اور مریض رل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت لاٹھی اور گولی کا نام نہیں ہوتا ۔ حکومت کے دن کم رہ گئے ہیں ۔موجودہ حکومت بھی سابق حکومتو ں اور پرویز مشرف کا تسلسل ہے ۔ اب قوم کے پاس آپشن صر ف جماعت اسلامی ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ دور حکومت میں ترقیاتی کام ٹھپ ہوچکا ہے ۔ ملک ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف جارہا ہے ۔لوگوں کو روز گار ،تعلیم اور صحت کی سہولتیں دستیاب نہیں ۔ایک کروڑ نوکریاں اور50 لاکھ گھر دینے والے اپنے وعدے پورے نہیں کرسکے۔اب تک 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں۔لوگوں کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا ۔ہر طرف مایوسی اور پریشانی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور سپورٹ کیا وہ سب پریشان ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ ہرجگہ مسلمان محاصرے میں ہیں اور امت مسلمہ کے خلاف عالم کفر متحد ہوکر سازشیں کررہا ہے جبکہ امت مسلمہ کے حکمران بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر میں97 دنوں سے کرفیو ہے کشمیر ی عوام اپنے پیاروں کی لاشیں اپنے گھروں میںدفن کرنے پر مجبور ہیں ۔ خوراک اور دوائیوں کا کوئی بندوبست نہیں ہے لیکن دنیا نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں جب کہ امت مسلمہ کے حکمران بہرے ہوچکے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے اپنے نقشے میںکشمیر اور گلگت شامل کر لیے ہیں ۔ بھارتی فوج کہہ رہی ہے کہ کشمیر میںہماری راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی ہے اس لیے کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی عاید کردی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے سوا دوسرے نظام لانے کی کسی قیمت پر اجازت نہیں دیں گے ۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہاکہ نریندرمودی تمام اقلیتوں کو جبراً ہندو بنانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے جس سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں ،مقبوضہ کشمیر میں کرفیولگے 100دن کے قریب ہو چکے مگر کشمیری مودی کے مظالم کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ،پاکستان کے 22کروڑ عوام کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں حکمران کشمیر کی آزادی کے لیے واضح اور دوٹو ک پالیسی اپناتے ہوئے روڈ میپ دیں ،جماعت اسلامی پاکستان کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی ،کشمیری تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جدوجہدکررہے ہیں ،عالمی برادری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پاس کر کے بھارت کے خلاف فوجی کارروائی کرے ۔امیر العظیم نے کہاکہ نریندرمودی اور آر ایس ایس عدالتوں پر اثر انداز ہو کر عدالتوں سے جانبدارانہ فیصلے کرا رہے ہیں بابری مسجد کے حوالے سے کورٹ کا فیصلہ حکومتی دبائو کا شاخسانہ ہے ،نریندرمودی اور آر ایس ایس بھارت کے اندر تمام اقلیتوں کو جبراً ہندو بنانے کی سازش کررہی ہے، مساجدوچرچز کو مندر بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اس مرحلے پر خاموشی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بھارت کو روکے ۔ امیر جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر ڈاکٹر خالد محمود نے کہاکہ مودی کا ایجنڈا صرف مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنا نہیں وہ پاکستان کو بھی ہڑپ کرنا چاہتا ہے،صبح آزادی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی ،جماعت اسلامی 11 نومبر سے 30دسمبر تک بھرپور دعوتی مہم چلائے گی ، تبدیلی اور انقلاب انہی راہوں پر چلنے سے آئے گا جن پر نبی مہربان ؐ چلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی بیٹیاں ہماری امداد کی منتظر ہیں اسلام آباد میں بیٹھے حکمران دیکھ لیں کہ مودی کا ایجنڈا صرف مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ وہ پاکستان کا پانی بند کرنے کااعلان کررہا ہے۔ کشمیری اپنے حصے کی جدوجہد کررہے ہیں 5لاکھ شہدا کا خون رنگ لائے گا۔کنوینر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل عبدالرشید ترابی نے کہاکہ کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی کر کے کوئی پاکستان کا حکمران نہیں رہ سکتا ۔ کوئی مائی کا لعل کشمیر کا سودا نہیں کرسکتا مودی کے اقدامات مودی کے گلے میں پڑ گئے ہیں مودی کے حالیہ اقدامات کی وجہ سے وہ کشمیری جوبھارت کے حمایتی تھے وہ بھی قائد اعظم کے نظریے پر آگئے ہیں پوری کشمیری قوم یک جان اور یک زبان ہو کر مودی کے خلاف صف آرا ہو چکی ہے یہ آزادی کی نوید ہے ساری دنیا مودی کے اقدامات کی نفی کررہی ہے عالمی سطح پر فضا کشمیریوں کے حق میں بن چکی ہے اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ دریں اثناء اسلام آباد( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں مزدوروں کازندہ رہنامعجزہ ہے عوام نڈھال ہوگئی ہے ،یہ نظام سرمایہ داروں اورجاگیرداروں کے لیے اور مزدوری کرنے والوں کے لیے استحصال پر مبنی ہے،یہ نظام ناقابل اصلاح ہے ۔اسلامی نظام ہی ہمارے مسائل کا حل ہے۔ اس سے ہماری نسلوں کوفائدہ ہوگا۔ استحصالی نظام سے بغاوت نہ کرنامنافقت ہے ۔ ایوانوں میںایسٹ انڈیا کمپنی کے غلام بیٹھے ہیں۔ مفاد پرست ٹولاپاکستان پر مسلط ہے، ظالم نظام نے علما مساجد مدارس کو تقسیم کیا ہے اس لیے ہمیں مل کر میدان میں کھڑا ہونا ہوگا،سیاست کے شیطانی چکرمیں پوری قوم کو پھنسادیاگیاہے۔مزدورں کے لیے ایوانوں کے دروازے بند ہیں۔ اپناخون بھی مزدوروں کی فلاح کے لیے دینے سے دریغ نہیں کریں گے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سر سید میموریل سوسائٹی اسلام آباد میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب کے حوالے سے منعقدہ مزدور کانفرنس’’ مزدور مسائل کاحل سیرت سرو رعالم ؐ کی روشنی میں‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس سے صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی،کنڑی ڈائریکٹر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن انگرڈکرسٹیسن ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ میں این ایل ایف کی قیادت کو مبارک باد پیش کرتاہوں یہ 50سال سے مزدوروں کے لیے کام کررہی ہے۔ 7کڑور سے زاید مزدور پاکستان میں ہیں ۔ مزدوروں سمیت ملک کا ہر شہری پریشان ہے۔ یہ نظام ٹھیکیداروں،جاگیرداروںاورسرمایہ داروں کا ہے، محنت کرنے والوںکا یہ نظام استحصال کر رہا ہے۔ کمزور اور غریب کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ ادارے گونگے اور بہرے ہیں۔ انصاف کے لیے جیب میں 50لاکھ ہونا چاہیے۔ ایوانوں میں وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت کی اب یہ پاکستان پر مسلط ہیں، ان کا کلچر اور رویے تبدیل نہیں ہوں گے۔ کارخانے کے منافع میں مزدوروں کو کچھ نہیں ملتاہے، کسان پیداوار میں شامل نہیں ہوتا ہے۔اس دور میں مزدوروں کا زندہ رہنا معجزہ ہے عوام نڈھال ہوگئی ہے،35سال سے زاید پاکستان میں ہم نے مارشل لا کو دیکھا ہے اور باقی عرصے جاگیرداروں کے کلب نے حکمرانی کی ہے، ان کو عوام کے مسائل کا پتا ہی نہیں ہے، وہ عوام کے مسائل کو افسانہ سمجھتے ہیں،ان کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے یہ سب کچھ انقلاب کے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس ملک کو اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے۔ پوری قوم سیاست کے شیطانی چکر میں پھنس گئی ہے ۔ تبدیلی کے لیے مزدور نے ووٹ دیا مگر سب کچھ پرانا ہے۔اگر ملک میں اچھی حکمرانی قائم ہوجائے تو کوئی بھوکا نہ سوئے۔صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ مزدوروں کی آواز بلند کی مزدور تنظیموں کو جوڑ رہے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تا کہ مل کر مزدوروں کے حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کی جاسکے،پاکستان میں مزدوروں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر مکمل عمل نہیں ہورہا ہے۔ہماری تنظیم کو 50سال ہوگئے ہیں یہ خود مختار تنظیم ہے۔کنڑی ڈائریکٹر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن انگرڈ کرسٹیسن نے کہاکہ ٹریڈ یونین کو مضبوط کیا جائے،آئی ایل اوبلوچستان میں مزدوروں کی فلاح کے لیے کام کررہے ہیں کم سے کم متعین تنخواہ مزدور کو ملنی چاہیے، ایک دن میں چیزیں ٹھیک نہیں ہوسکتی ہیں، اس کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا ہوگی، پاکستان میں سب مزدوروں کو کم ازکم تنخواہ بھی نہیں ملتی ہے اور نہ ہی مرداور خواتین کی تنخواہ ایک جیسی ہے ۔