جسٹس فائز کیس: جس طرح کا خرچ ہے وہ آمدن کے مطابق نہیں‘ عدالت عظمیٰ

73

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ جس طرز کا خرچ ہے وہ آمدن کے مطابق نہیں۔پیر کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اوردیگر درخواستوں پر سماعت کی۔جسٹس فائزکے وکیل منیر اے ملک کے ٹیکس معاملات پر معاون وکیل بابر ستار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں قانونی مراحل کو اپنایا نہیں گیا، صرف ہدف کو مد نظر رکھ کر اقدامات کیے گئے، ٹیکس اتھارٹی نے اپنے اختیارات کادرست استعمال نہیں کیا، ٹیکس قوانین کے تحت آج تک کسی سول سرونٹ کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی، سپریم جوڈیشل کونسل نے جائزہ لینا ہے کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا کہ نہیں،کیا بلڈنگ کوڈ اور ٹریفک چالان بھی جج کے مس کنڈکٹ میں آئے گا؟۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان قانون دیگر انتظامی ٹربیونلز سے زیادہ جانتے ہیں، یہ نہ بھولیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل سینئر ترین ججز پر مشتمل ہوتی ہے، صرف ٹیکس کمشنر پر معاملہ چھوڑ دینا آرٹیکل 209 کی تضحیک ہوگی، ممکن ہے کونسل ٹیکس کمشنر کو مناسب فورم قرار دیتے ہوئے فیصلہ کرنے دے۔فل کورٹ بینچ کے سربراہ نے کہا کہ بظاہر تینوں جائداد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی ہیں، آپ کو دستاویز سے بتاناہے کہ جسٹس فائزکی اہلیہ زیر کفالت ہیں یا نہیں، جس طرز کا خرچ ہے وہ آ مدن کے مطابق نہیں، کیس میں جج کے مس کنڈکٹ کا الزام ہے۔بابر ستار نے کہا کہ 5اگست 2009 ء کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ بنے، عدالت عظمیٰ میں آنا نئی تعیناتی ہے۔جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہعدالت عظمیٰ آنے پر ہائی کورٹ کا کنڈکٹ ختم ہو جاتا ہے۔ بابر ستار نے جواب دیا کہ جی بالکل ،یہ میری لیگلمعروضات کا حصہ ہے کہ ہائی کورٹ کا کنڈکٹ عدالت عظمیٰ آنے پر ختم ہو جاتا ہے، ساڑھے 7ہزار پائونڈبیرون ملک جائداد کی کل مالیت ہے جو اسلام آباد کی جائداد کی مالیت سے زیادہ نہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الزام جائداد کی مالیت کا نہیں ذرائع آمدن کا ہے۔ بابر ستار نے کہا کہ صدرمملکت کے سامنے منی لانڈرنگ کا معاملہ نہیں آیا، صدر مملکت نے اگر آزاد ذہن استعمال کیا ہوتا تو ایسٹ ریکوری یونٹ اور ایف آئی اے کی رپورٹ پر معاملہ جوڈیشل کونسل کے سامنے نہیں آتا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ صرف منیر اے ملک کی اِنکم ٹیکس پر معاونت کرنے آئے تھے مہربانی کر کے اسی تک رہیں۔ بابر ستار نے کہا کہ ریفرنس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اثاثہ ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا، ہمارا موقف ہے کہ نہ اثاثے چھپائے گئے اور نہ غلط بتائے گئے۔بابر ستار نے کہا کہ نیویارک میں میری تنخواہ اچھی تھی تو فلیٹ خرید لیا، اگر میرے والد جج ہوتے تو شاید انہیں بھی شوکاز نوٹس مل جاتا۔کیس کی مزید سماعت آج پھرہوگی۔