کابینہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دے دی

59

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ(ای سی ایل) سے نکالنے کی مشروط منظوری دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کیلئے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کیلئے سیکیورٹی بانڈ جمع کروانے ہوں گے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس ہوا ہے۔ جس میں معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر، نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان اور نمائندہ شہباز شریف عطا تارڑ بھی شریک ہیں۔ ذیلی کمیٹی کو ‏سیکرٹری صحت اور سربراہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

پنجاب حکومت نے موقف اپنایاکہ نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے، انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے جب کہ نیب نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کی۔

ذیلی کمیٹی کئی گھنٹے تک اجلاس کے بعد بھی کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکی جس کے بعدکمیٹی کا اجلاس رات ساڑھے 9 بجےدوبارہ بلایا گیا ہے۔

کمیٹی نے نواز شریف کے وکلاء سے ان کی واپسی کی تاریخ مانگ لی، اس کے علاوہ کمیٹی نے کہا ہے کہ  نوازشریف کی وطن واپسی کی ضمانت کے طور پر کچھ اثاثے بھی رکھیں، رات ساڑھے نو بجے کے اجلاس میں نوازشریف کے وکلاء کمیٹی کو جواب دیں گے۔

اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کامعاملہ پیچیدہ ہے، فریقین مکمل دستاویزات نہیں لائے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی، نیب حکام کو بہت سی دستاویزات ساتھ لانے کو کہا تھا، اس کے علاوہ درخواست گزار اور ان کے وکلا کو بھی دستاویزات لانے کا کہا ہے، کابینہ کی ذیلی کمیٹی میرٹ پر فیصلہ کرے گی۔