کراچی میں دوسرے روز بھی ٹڈی دل کا حملہ

88

کراچی(اسٹاف رپورٹر) بہادر آبادمیں نجی اسکول میں ٹڈی دل کی یلغار سے اسکول میں زیر تعلیم بچے پریشان ہو گئے.جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل نے یلغار کر دی، بلوچ کا لونی، گلشن اقبال، کورنگی سب سے زیادہ متاثر، شہری پریشان ہوگئے ہیں۔

ٹڈی دل کی یلغار سے نیشنل اسٹیڈیم میں کرکٹ میچ بھی روکنا پڑگیا، تدارک کیلئے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ نے سر جوڑ لئے ہے۔ سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ملیر میں ٹڈی دل نے فصلوں کو نقصان نہیں پہنچایا، اطلاع ملتے ہی سندھ حکومت نے ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔

صوبائی وزیر اسماعیل راہو کا کہنا ہے ٹڈی دل عوام کو نقصان نہیں پہنچاتی شہری پریشان نہ ہوں، ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے سپرے محکمہ زراعت کروا رہا ہے۔فصلوں اور باغات کو تیزی سے نقصان پہنچانے والے حشرات الارض ٹڈی دل نے اندرون سندھ اور بلوچستان کے بعد کراچی کا رخ کرلیا ہے۔

ٹڈی دل نے گزشتہ روز کراچی کے مضافاتی علاقے ملیر میں فصلوں پر حملہ کردیا تھا۔ پیر کی صبح سے ٹڈ ی دل شہر کے مختلف علاقوں بشمول بہادرآباد، بلوچ کالونی اور ٹیپو سلطان روڈ پر جھنڈ میں منڈلاتے اور اڑتے دکھائی دے رہے تھے۔ صورتحال دیکھ کر شہری پریشان ہوگئے ہیں۔

ٹڈیوں کے جھنڈ نیشنل اسٹیڈ یم بھی پہنچ گئے جس کے وجہ سے سندھ اور سوئی سددرن گیس کمپنی کے درمیان کھیلا جانے والا کرکٹ میچ بھی روکنا پڑا۔

دوسری جانب سندھ سرکار نے ٹڈی دل کے حملے کی تمام تر ذمہ داری وفاق پر عائد کردی ہے۔ صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ پلانٹ پروٹیکشن کا محکمہ وفاق کے ماتحت ہے۔اگر پلانٹ پروٹیکشن کا عملہ وقت پر اسپرے کرتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔

صوبائی وزیر نے اتنے سنگین مسئلے کا مذاق اڑا تے ہوئے کہا کہ ٹڈیاں کراچی کے شہریوں کے پاس خود آئیں ہیں، وہ اس کا فائدہ اٹھائیں۔ شہری اس کی کڑھائی اور بریانی بناکر کھا سکتے ہیں۔صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے دعویٰ کیا کہ جہاں جہاں سے ٹڈی دل کے حملے کی اطلاع ملتی ہے وہاں اسپرے کرایا جارہا ہے۔

ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن طارق خان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ٹڈی دل بلوچستان کے راستے کراچی میں داخل ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری خوف زدہ نہ ہوں، ٹڈی دل شہریوں کے لئے بے ضرر ہیں۔طارق خان نے بتایا کہ ٹڈی دل کے خلاف ملیر میں اسپرے کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ بارش اور گرمی سے ٹڈیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، 1960میں کراچی میں ٹڈی دل کا حملہ ہوا تھا، یہ تمام درختوں اور پودوں کو تباہ کردیتے ہیں، بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہیں،

بلوچستان کے بعد ٹڈی دل نے سندھ اور پنجاب میں حملہ کیا تھا۔ اس کے خاتمے کیلئے فوری طور پر اسپرے کرنے کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر معظم خان کا کہنا ہے کہ یہ فصلوں کیلئے دنیا کا سب سے خطرناک کیڑا کہلاتا ہے۔