حکومت کے موثر اقدامات کی وجہ سے معیشت کو سنبھالا ملا ہے،مشیر خزانہ

72

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کے موثر اقدامات کی وجہ سے معیشت کو سنبھالا ملا ہے،تجارتی خسارے میں بتدریج کمی ہو رہی ہے جبکہ مجموعی قومی خسارے میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی، زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

حکومتی معاشی ٹیم ارکان وفاقی وزیر حماد اظہر،چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےمشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت کے موثر اقدامات سے ملکی معیشت کو سہارا ملا ہے ، ملکی خسارے میں بتدریج کمی ہورہی ہے،تجارتی خسارے میں بدستورکمی ہورہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ 5 سال بعد ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوا،ایف بی آرکے محصولات میں بھی 16 فیصد اضافہ ہوا، اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے بہتری آرہی ہے ۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ 4 ماہ کے دوران سابق حکومت کالیاگیاقرض واپس کیا، پچھلی حکومتوں کا 2.1 ارب ڈالرقرض واپس کیااور گزشتہ 4 ماہ سےاسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیاگیا،آئی ایم ایف وفد نے پاکستانی معیشت پر ایک رپورٹ جاری کی ہے اور پاکستانی معیشت اور اہداف پر اطمینان کا اظہار کیا،آئی ایم ایف ٹیم نے پاکستان کےلئے دوسری قسط کی سفارش کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں کو مختلف مراعات ر دینے سے مثبت اثرات مرتب ہوئے،پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کیلئے 130 ارب روپے اضافی مختص کئے ہیں ، گھروں کی تعمیر میں حصہ لینے والے اداروں کےلئے ٹیکس چھوٹ بھی دی جائے گی جبکہ برآمدات کے فروغ کےلئے برآمد کنندگان کو200ارب روپے اضافی دیے جائیں گے،برآمد کنندگان کےلئے قرضے کی مد میں 100ارب روپے مزید رکھے گئے ہیں

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکس ریفنڈ کی مد میں 30ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے ، گردشی قرضوں کی مد میں بھی  250 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے،ایف بی آر کی وصولیاں 16فیصد بڑھی ہیں، ڈالر کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور روپے کی قدر مستحکم ہوئی ،

انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ کم کرنے کےلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں ، معیشت اس وقت بہتر ہوگی جب زیادہ ڈالر کمائیں گے ، کاروباری حضرات کو لیکوڈٹی کی فراہمی کےلئے 130ارب روپے دیں گے،اسٹاک مارکیٹ گزشتہ ہفتوں سے اوپر جا رہی ہے،حکومت بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کمی کےلئے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے ، گندم کی قیمت کم کرنے کرنے کےلئے فوری 6.5لاکھ ٹن گندم فراہم کی۔

 مشیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات ہوں گی ،نیا عملہ اور ٹیکنالوجی بھی لائی جائے گی،ایف بی آر میں اصلاحات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں ابھی پوری جزیات طے نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مسلسل چلتے ہیں،بہتر کارکردگی پر ہمیں مزید رعایت حاصل ہو گی،سابق حکومت کی ایکسچینج ریٹ پالیسی سے 20 سے 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،ہماری برآمدات کمی ہوئی اور ملک میں ڈی انڈسٹریل لایزیشن ہوئی، سابق حکومت کے اقدامات کے باعث عوام کو تکلیف ہوئی،وزیراعظم عمران خان کی حکومت جب تک موجود ہے قیمتوں پر کنٹرول رہے گا۔