صد ر آزا د کشمیر سردار مسعود احمد خان کی ادارہ نور حق آمد ، حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات

116
صدر آزادکشمیر سردار مسعود احمد ادارہ نورحق میں حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کررہے ہیں ،ذمے داران بھی موجود ہیں، دوسری جانب سردار مسعود میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
صدر آزادکشمیر سردار مسعود احمد ادارہ نورحق میں حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کررہے ہیں ،ذمے داران بھی موجود ہیں، دوسری جانب سردار مسعود میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف ر پورٹر)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعوداحمد خان نے ہفتے کو دفتر جماعت اسلامی کراچی ادارہ نورحق کادورہ کیا۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی ۔ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی حالیہ سنگین صورتحال، بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کے حالیہ فیصلے اور اہل کشمیر کی مدد اور تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امراء برجیس احمد ،ڈاکٹر اسامہ رضی،ڈاکٹر واسع شاکر، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب،پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ اوردیگربھی موجود تھے۔ بعد ازاں سردار مسعود احمد خان نے حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہل کشمیر پاکستان کے لیے قر بانیاں دے رہے ہیں،ہم حالت جنگ میں ہیں،بھارت نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کے فیصلے کے بعد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ امت کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے،اس تناظر میں ہماری ذمے داری ہے کہ ہم بھارت کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں،کشمیریوں کی نسل کشی کے عمل کو رکوانے کی کوشش کریں،یہ ایک طویل جدو جہد ہے ،بھارت نے آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکی دی ہے،ہمیں اپنے دفاع کے لیے تیاری کرنی ہے،سیاسی و سفارتی سطح پر حکمت عملی کے ساتھ ساتھ بھر پور جواب دینے کی بھی تیاری کرنی ہے اورکشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوانا ہے۔سردار مسعود احمدخان نے کہا کہ بھارتی عدالت عظمیٰ نے مسمار شدہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا انتہائی جانبدارانہ اور متعصبانہ فیصلہ کیا ہے،وہ چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹائی جائے اور یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب پاکستان نے کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا ہے،امن،محبت اور مذہب کے تقدس کا پیغام دیا ہے مگر بھارت نے اس کے جواب میں واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مقامات اور جذبات کا احترام نہیں کرتا،بھارت کے اس اقدام نے ہندو مسلم تصادم اور تہذیبوں کی جنگ کا آغاز کیا ہے اور اگر اسے نہ روکا گیا تو یہ جنگ کئی عشروں تک محیط ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کرنے کے فیصلے سے اوآئی سی کی ان قراردادوں کی بھی نفی کی ہے جن میں بابری مسجد کو ختم کرنے اور اس کی بحالی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، بھارت چاہتا ہے کہ ایک نیا تصادم اور شورش پیدا ہو تاکہ مقبوضہ کشمیر میں اس کے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں،نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنے،خواتین کی بے حرمتی کرنے اور مقبوضہ کشمیر کو بھاری افواج کی طر ف سے جوایک مفتوحہ علاقہ قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس پر سے توجہ ہٹائی جائے ، مقبوضہ وادی میں 97روزہو گئے ہیں اور وہ محصور اور محکوم بنے ہوئے ہیں،15ہزار نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے،خواتین کی بے حر متی کی جارہی ہے ، پوری کشمیری قیادت کو قید کر رکھا ہے ،9لاکھ غاصب اور بزدل بھارتی افواج رات کی تاریکی میں اہل کشمیر کے گھروں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ ان حالات میں پاکستان کی حکومت ریاست،تمام جماعتوں اور پوری قوم کی ذمے داری ہے کہ تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مثالی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں،میں پاکستانی قوم کا بھی شکریہ بھی ادا کرتا ہوں جس نے5اگست کے اقدام کے بعد کشمیریوں کے ساتھ اپنے اتحاد ، خلوص کے ساتھ مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ایشو پر جماعت اسلامی کا کردار بہت منفرد اور مثالی رہا ہے اور میں آج جماعت اسلامی کے دفتر میں خاص طور پر اس لیے آیا ہوں کہ جماعت اسلامی نے یکم ستمبر کو اہل کشمیر کے لیے جو ایک عظیم الشان آزادی کشمیر مارچ منعقد کیا تھا مجھے اس میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن میں شریک نہ ہو سکا تھا،میں اس کاوش اور مثالی مارچ پر ان کا شکریہ ادا کرنے اور عدم شر کت پر معذرت کرتا ہوں ،کراچی کے ساتھ ہمارا رشتہ اور تعلق بہت مضبوط اور پرانا ہے ،کراچی سے اہل کشمیر نے ہنر اور تعلیم حاصل کی ہے ،ہم نے کراچی سے بہت کچھ سیکھا ہے ،یہ رشتہ اور تعلق مزید مضبوط ہو گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے اور اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے اور فائدہ بھارت کو ہو رہا ہے،اس وقت ہماری ترجیحات میں کشمیر کو سر فہرست ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہو رہا ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں سے اس وقت جو اقدامات کرنے کی اُمید اور توقع تھی کشمیر کے سلسلے میں وہ نہیں کیے جا رہے،اہل کشمیر اس بات کا حق رکھتے ہیں اس وقت جو کچھ کیا جا رہا ہے اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر کیا جائے،حکومت اور ریاست کو آگے بڑھ کر فیصلے اور اقدامات کرنے ہوں گے اورکنٹرول لائن کو جو اہمیت دی جارہی ہے اس سے بڑھ کر کوشش کرنی چاہیے ،جب ہم آگے بڑھ کر اقدامات کریں گے تو اس کے نتیجے میں ہی کوئی بامعنی مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق آنے پر صدر آزادجموں و کشمیر کا شکریہ اداکیا اور کہا کہ انہوں نے کشمیر کاز کے لیے سفارتی سطح پر اقوام متحدہ کے فورم پر بہت اہم کردار ادا کیا ہے،آج کی ملاقات میں ہم نے جماعت اسلامی کی جانب سے ان مختلف تجاویز اور مشورے بھی دیے اور ان سے رہنمائی بھی حاصل کی،کشمیری عوام ہماری حکومت،ریاست ، تمام جماعتوں اور پوری قوم کی توجہ کے مستحق ہیں،ہمیں کسی بھی قیمت پر کشمیر کاز کو نظر انداز نہیں ہونے دینا ہے ۔
سردار مسعود احمد