بلوچی اور فارسی زبان کے درمیان رابطہ سازی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے

27

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) بلوچی اور فارسی زبان کا سرچشمہ ایرانی سرزمین سے پھوٹتا ہے اور یہ دونوں قومیں یکساں روایات کی حامل ہیں، اس لیے بلوچی اور فارسی زبان بولنے والے افراد کے درمیان رابطہ سازی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران محمد حسین کفی زادہ واقفی نے بلوچی اکیڈمی کے تعارفی دورے کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچی اکیڈمی کے ممبران کے روبرو بیٹھ کر خوشی محسوس ہورہی ہے کیونکہ یہ اکیڈمی بلوچی زبان و ادب کی نمائندگی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کسی بھی قوم کی ثقافت، تاریخ اور روایات کو جاننے اور سیکھنے کے عمل میں بنیادی کردار زبان ادا کرتی ہے جن میں اشاراتی زبان، بولنے کی اور لکھنے کی زبانیں قابل ذکر ہیں لیکن ایک زبان علم الانسانیات کے نام سے بھی موجود ہے جو انسانوں کے جذبات، خواہشات اور دوسرے انسانوں سے تعلق و رابطے کا علم کہلاتاہے۔موجودہ دور میں اس علم کو پھیلانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اقوام اور افراد میں قربت کے رشتے کو پروان چڑھایا جاسکے۔ محمد حسین کفی زادہ واقفی نے کہا کہ فارسی، بلوچی یا اس خطے کی دوسری زبانیں ایرانی زبانوں کی شجرے سے تعلق رکھتی ہیں اور خصوصی طور پر بلوچی اور فارسی میں اس مماثلت کا عنصر واضح ہے اور دونوں زبانوں کے مشترک الفاظ ان اقوام کے برادرانہ رشتے کے مضبوطی کی دلیل ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل محمد حسین کفی زادہ واقفی نے کہا خانہ فرہنگ ایران بلوچی فارسی زبانوں اور اقوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں ہمیشہ جدوجہد کرے گی اور مستقبل میں مزید پراجیکٹس اور اقدامات میں بلوچی اکیڈمی کے ممبران کی مشاورت اور تعاون حاصل کی جائے گی تاکہ مضبوط رابطہ سازی کے ذریعے دونوں زبانوں کو ترقی دی جاسکے۔