کرتار پور راہداری سے قادیانیوں کو زیادہ سکھوں کو کم فائدہ ہوگا

83

ٹنڈو آدم (پ ر) بابری مسجد کا غلط فیصلہ کرتار پور راہداری کا صلہ ہے، بھرپور مذمت کرتے ہیں، کرتار پور راہداری کا سکھوں سے زیادہ فائدہ قادیانیوں کو ہے۔ تنظیم تحفظ ناموس خاتم الانبیا پاکستان اور شبان ختم نبوت سندھ کے مرکزی رہنمائوں علامہ احمد میاں حمادی، مفتی محمد طاہر مکی، مولانا محفوظ الرحمن شمس، قاری محمد عارف، حافظ محمد ایمان سموں، حافظ عبدالرحمن الحذیفی، شیر اسامہ بن طاہر ودیگر نے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کی شہادت پر فیصلے کو یکطرفہ اور انتہا پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے میں صرف بھارتی سپریم کورٹ نہیں عمران خان سو فیصد ملوث ہیں، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ جس دن کرتار پور راہداری کھولی گئی، اسی دن یہ فیصلہ سنایا گیا۔ ہمارا شروع سے مؤقف ہے کہ کرتار پور راہداری سے قادیانیوں کو زیادہ اور سکھوں کو کم فائدہ ہوگا اور اس راستے سے بھارت ہمیں بلیک میل کرتا رہے گا، جس کا زندہ ثبوت بابری مسجد کا فیصلہ ہے۔