سفر میں پیروں کی حفاظت حکیم عبدالحنان

56

سفر کے دوران جسم کا جو حصہ سب سے زیادہ تختۂ مشق بنتا ہے وہ آپ کے پیر ہیں ۔ متعدد بارپر آپ کو پیدل چلنا پڑتا ہے ۔ قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ ریلوے اسٹیشن پر مطلوبہ پلیٹ فارم تک پہنچنے کے لیے سیکڑوں سیڑھیاں چڑھنا اترنا پڑتا ہے اور کسی نئی جگہ شاپنگ کرتے ہوئے آپ بہتر سے بہتر شے کی تلاش میں ایک دکان سے دوسری دکان کے طواف کرنا گوارہ کر لیتے ہیں ۔ بس کاسفر ہو یا ہوائی جہاز کا ، پائوں سب سے زیادہ مشقت اٹھاتے ہیں ۔ آپ کے پورے جسم کا بوجھ برداشت کرتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ہر مسافر کراہتا ہوا کہہ رہا ہوتا ہے ’’ بھئی میری ٹانگیں تو درد سے پھٹی جا رہی ہیں۔‘‘
آپ سفر کے لیے جو بھی ذریعہ اختیار کریں سفر کا آغاز کرنے سے پہلے سب سے زیادہ اہمیت اپنے جوتوں کو دیجیے ۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ جوتوں کی شکل و صورت اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہے جس قدر اہمیت ان کے آرام دہ اور مضبوط ہونے کو حاصل ہے ۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آرام ملے تو سینڈل اور چپلیں بھی پہنی جا سکتی ہیں ۔ بالکل نیا جوتا یا ایسا جوتا جس کا تلا حال ہی میں تبدیل کیا گیا ہو پہن کر سفر پر کبھی مت جایئے ۔ جو تا بالکل نیا ہو یا اس کا تلا تبدیل کیا گیا ہو ، دونوں صورتوں میں جوتے کو آپ کے پیر کے ساتھ مناسبت اختیار کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے اور جب تک آپ کا پائوں جوتے کا عادی نہ ہو جائے ، جوتا چلنے پھرنے میں تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے ۔
سفر چاہے دو چار دن ہی کا ہو جوتوں کا ایک فاضل جوڑا ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیے اور دونوںجوڑوں کو باری باری پہنیے ۔ اس طرح جوتوں کی نمی پوری طرح خشک ہو جاتی ہے ۔ در اصل زیادہ چلنے کی وجہ سے پیروں میں پسینہ آتا ہے ، جس سے جوتوں میں نمی پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ نمی آگے چل کر پیروںمیں تکلیف کا باعث بن سکتی ہے اور آپ کا سفر مکمل ہونے کے بعد بھی اس نا خوشگوار سفر کی یاد دلا سکتی ہے ۔
جب آپ سفر کے دوران جوتوں کی ایک جوڑی پہن کر اتار دیں اور دوسری جوڑی پہننے لگیں تو اتارے ہوئے جوتوں کو سوٹ کیس یا کسی بیگ میں فوراً بند نہ کر دیجیے ۔ انہیں کمرے میں کسی کھلی جگہ رکھ دیجیے تاکہ ہوا لگنے سے ان کی نمی دور ہو جائے ۔ اگر جوتے زیادہ گیلے ہو گئے ہوں( جیسا کہ ساحل پر جوتے سمیت گھومنے یا بارش وغیرہ میں بھیگنے کی صورت میں ممکن ہے ) تو جوتوں کو کچھ دیر دھوپ میں رکھ کر سکھانا مناسب نہیں ہے کیونکہ دھوپ کی گرمی جوتوں کوضرورت سے زیاد ہ خشک کر دیتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ان کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ سخت ہو کر بے آرام بھی ہو جاتے ہیں۔
دوران سفر جب بھی آپ کوموقعملے ، اپنے جوتے اتار کر پیروں کو ہوا لگنے دیجیے۔ ہوائی جہاز ، ٹرین یا بس کے طویل سفر کی صورت میں اس طرح کا موقع ضرور نکال لینا چاہیے ۔ اگر آپ پیدل چل رہے ہوں توجب کہیں سستانے یا آرام کرنے کے لیے بیٹھیں ، اپنے جوتے اتا ر کر رکھ دیجیے تاکہ پیروں کو ہوا لگ سکے اور ان کی نمی دور ہو جائے ۔ اس طرح پیروں کا دوران خون بھی بہتر ہوجاتا ہے ، دوسری طرف جوتوں کی نمی بھی کسی حد تک دور ہو جاتی ہے ۔
پیروں کی ورزش کرتے رہنا بھی سفر کے دوران نہایت ضروری ہے ۔ جوتے اتار کر پیروں کی انگلیوں کو ہلاتے اور موڑتے رہنا ، پنڈلیوں اور رانوں کے گوشت کو تاننا اور پھر ڈھیلا چھوڑنا مفید ہوتا ہے ۔ اسی طرح پہلوبدل کر بیٹھنے یا پیر قدرے اوپرکر کے بیٹھنے سے بھی پیروں کا دوران خون درست رہتا ہے ۔ دوسری طرف عضلات کی ورزش بھی ہو جاتی ہے ۔ ان ورزشوں کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ جب آپ کو کسی مجبوری کی وجہ سے دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھنا پڑے ۔