پانچ بڑے جھوٹ جو آپ سے بولے جاتے ہیں

88

فاطمہ عزیز

شاید آپ کے علم میں نہ ہو کہ اگر آپ ایک عام آدمی ہیں تو دنیا میں موجود ہزاروں لوگوں کی طرح آپ سے بھی جھوٹ بولا جارہا ہے اور آپ ان جھوٹی باتوں پر سو فیصد نہیں تو اسی فیصد ضرور یقین رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ عموماً ہوتا ہے لوگ اپنی چیزیں بیچنے کے لیے چیز کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں جو کہ کبھی سچ ہوتے ہیں تو کبھی جھوٹ — بڑی بڑی انڈسٹریز اپنے منافع کے لیے اشتہار بناتی ہیں اور اس میں سچ اور جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے ، مثال کے طور پر میک اپ انڈسٹری اپنا میک اپ بیچنے کے لیے خواتین کو خوبصورت رکھنے کے دعوے کرتی ہیں ۔ بعض دفعہ ان میں سچائی بھی ہوتی ہے لیکن عموما بات وہ نہی ہوتی جو کہی جاتی ہے کھانے کی چیزوں کی ، کھانے بنانے کی فیکٹریز اگر اپنی پروڈکٹس کے بارے میں جھوٹ بولیں تو یہ ایک طرح سے جرم ہوتا ہے کیونکہ وہ کھانا ہماری صحت پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہماری زندگی کم کرنے کا باعث بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ مالی نقصان الگ ہمارے الگ ہوتاہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کایقین ہے کہ یہ چیز ہماری صحت کے لیے اچھی ہے مگر اصل میں ایسا نہیں ہوتا ۔ آیئے ہم آپ کو ان پانچ بڑے جھوٹ سے آگاہ کریں جو بڑی بڑی مشہورکھانے کی انڈسٹریز اپنے کھانوں کے بارے میں بولتی ہیں ۔ امیدہے کہ ان کی سچائی جان کر شاید آپ اپنی صحت کے لیے ان چیزوں سے بچنے کی کوشش کریں اور اپنی زندگی کو صحت مندی کی طرف لے جائیں گے ۔
1۔ پھلوں کا جوس: ہمیں بچپن سے یہ سکھایااور پڑھایا جاتا ہے کہ پھلوں کا جوس/رس صحت کے لیے اچھا ہے کیونکہ ہمیں اندازہ ہے کہ پھلوں میں بے شمار صحت بخش پروٹینز اور وٹامنز ہوتے ہیں جو جسم کے لیے ضروری ہیں ۔ آپ آج یہ جان لیں کہ پھل ضرور صحت کے لیے اچھے ہیں مگر پھلوں کا جوس نہیں اور پیکٹ والا ٹیٹرا پیک جوس تو ہرگز نہیں بہت سارے طرح طرح کے پھلوں کے جوس جو آج کل پیکٹ میں بند مارکیٹ میں ملتے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگ خریدتے ہیں ان میں زیادہ تعداد میں چینی بھری ہوئی ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر آپ نے ایک جوس کا پیکٹ خریدا اور اس میں کل کار بو ہائیڈریڈ( جو کہ جسم کو طاقت دیتے ہیں)39 گرام ہے اور اسی میں نیچے لکھا ہے کہ33 گرام چینی ہے اور3 گرام پروٹین ہیں تو 39 میں سے 33 گرام تو چینی ہوئی باقی کم کی چیز پروٹین صرف3 گرام ہے تو آپ کو کافی پیسوں میں کیا ملا؟ چینی گھلا پانی؟ اس کے علاوہ ان جوسز کو دیر پا رکھنے کے لیے ان میں مصنوعی رنگ اورذائقہ ڈالا جاتا ہے اور آپ کو وہ نیوٹریشن نہیں مل پاتی جو اصل پھل کھانے سے ملتی ہے ۔ اسی لیے کوشش کریں کہ تازہ اور موسم کے لحاظ سے پھل کھائیں ۔ گھر میں ان کے جوس اور شیک کم چینی کے ساتھ بنائیں اور پیکٹ کے جوسز سے دور رہیں ۔
2۔ دوسرا جھوٹ جو آپ سے بولا جاتا ہے ۔ وہ Caned Drinks(بوتل کے مشروبات) والے بولتے ہیں جیسے کہ دوسری انرجی ڈرنکس بنانے والے بولتے ہیں ۔ ایسی ڈرنکس بنانے والے اپنے اشتہاروں میں دکھاتے ہیں کہ ان ڈرنکس سے آپ کی خوشی منسوب ہے اور یہ مشروبات پیتے ہی آپ خوشی سے ناچنے لگے مگر ہم آپ کو بتا دیں کہ چھوٹی سی بوتل میں آپ کے لیے خوشی نہیں موٹاپا اور شوگر جیسا مرض چھپا ہے ۔ کولڈ ڈرنکس خاص طور پرآپ کی ہڈیوں کو گلانے کا سبب بنتی ہے ۔ جس کو روزانہ کی بنیاد پر پینے والوں کے دانت گلے ہوئے اور زبان کالی پڑ جاتی ہے ۔ اسی طرح کچھ مشروبات جس میں فوراً انرجی ملنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ ان میں الکحل شامل ہونے کا شبہ ہوتا ہے اور اکثر میں تو لکھا بھی ہوتا ہے ۔ ان سب مشروبات کی کمپنیز ایسے اشتہارات بناتی ہیں جس میں دکھایا جاتا ہے کہ یہ مشروبات آپ کی زندگی میں ایک ایڈونچر اور خوشی لاتی ہیں مگر جان لیں کہ ان چھوٹی بوتلوں میں زہر ہے جو آپ کی زندگی میں تباہی پھیلا تا ہے ۔
3۔ تیسرا بڑا جھوٹ خود چینی کے بارے میں بولا جاتا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے جسم کو کبھی کبھی شوگر/چینی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مگر تمام میٹھا بنانے والی کمپنیز نے اس بات کو جان لیا ہے کہ چینی میں نشہ آور خصوصیات ہوتی ہیں اسی لیے ٹافی/میٹھا بنانے والی کمپنیاں اپنی چیزوں میں زیادہ چینی ڈالتے ہیں تاکہ لوگ خریدتے رہیں اور عادی ہو جائیں ۔ بازار میں اس وقت ستر فیصد سے زائد چیزوں میں شوگر چینی پائی جاتی ہے اور جدید ریسرچ کے مطابق چینی صرف جسم کے لیے نہیں دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔ زیادہ چینی دماغ کی سوچنے کی طاقت کو مفلوج کر دیتی ہے اور بچوں میں تو چینی نہایت نقصان دہ ہے کیونکہ چینی کھا کر بچے ہائپر ہو جاتے ہیں اور ان کے سونے کے یعنی نیند کے اوقات متاثر ہوتے ہیں ۔ اس لیے کوشش کریں کہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کومصنوعی اور اضافی میٹھا کھانے سے بچائیں اگر دل چاہے تو پھل کھائیں یا پھرگڑ استعمال کریں ۔
4۔چوتھا بڑا جھوٹ وہ کمپنیز بولتی ہیں جنہوں نے لفظ ڈائٹ اٹھایا ہے اور اپنےCans کینز میںلگا دیا ہے یعنی کہDiet Soda ڈائٹ سوڈا بنانے والی کمپنیز ڈائٹ ایک ایسا لفظ ہے جو ہم صحت سے جوڑتے ہیں اگر آپ صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی ڈائٹ یعنی کھانے کو صحت بخش رکھیں گے مگر آپ جان لیں کہ یہ مشروب آپ کے لیے دوسرے مشروبات سےزیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے آپ کا ہاضمہ متاثر ہوتا ہے ۔ جدید ریسرچ کے مطابق ڈائ سوڈاہمارے جسم کے لیے اچھا نہی ںہے ۔ اس کے علاوہ اس میں چینی بھی شامل ہوتی ہے ۔
5۔ پانچواں بڑا جھوٹ جو آپ سے بولا جاتا ہے وہ ورزش کے بارے میں بولا جاتا ہے ۔ نئی ریسرچ کے مطابق یہ ثابت ہوا ہے کہ نوے فیصد آپ کی جسم کی بناوٹ میں ورزش کا ہاتھ نہیں ہوتا بلکہ کھانے پینے کاہوتا ہے ۔
اسی لیے جب آپ ورزش کریں یا جم جائیں تو اپنی غذا کا بھی خاص خیال رکھیں ۔ یہی نقطہ لے کر بہت سی کمپنیاں اپنی پروڈکٹ میں لکھ دیتی ہیں کہ اس کو کھلانے سے آپ کے بچے کھیلوں میں، کراٹے میں طاق ہو جائیں گے ۔ان میں طاقت آجائے گی اور وہ چاق و چوبند ہو جائیں گے ۔ مگر ایسا نہیں ہے آپ کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان چیزوں میں40فیصد چینی ہوتی ہے۔ایسے مشروبات کے ایک گلاس میں اتنی چینی ہوتی ہے کہ اگر بچہ دو کلو میٹر بھاگے تب جا کر ختم ہو ۔ اتنی چینی بچوں میں موٹاپے کا باعث بنتی ہے اسی لیے وہ ممالک جہاں بچوں کو ایسے مشروبات زیادہ پلائے جاتے ہیں وہاں بچوں میں موٹاپا زیادہ دیکھا گیا ہے ۔اس لیے کچھ ممالک نے ایسی مصنوعات کے لیے اپنے ملک میں پابندی لگا دی ہے ۔ آپ بھی ایسی مصنوعات سے با خبر رہیں اور ان میں موجود اجزاء کو ضرور پڑھ لیاکریں ۔