قیام پاکستان میں علما مشائخ کا کردار نما یا ں رہا ہے، سینیٹر عبدالغفور حیدری

38

 

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) علما مشائخ کا قیام پاکستان میں کردار نمایاں رہا ہے اور پاکستان کی بقا کے لیے بھی علما مشائخ کا کردار اور جدوجہد قابل تحسین ہے، صوفیا کرام نے ہمیشہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کا درس دیا ہے، آزادی مارچ اور دھرنا کمزور طبقے کو مضبوط بنانے کے لیے ہے، آئین توڑنے والوں کے کندھوں پر سوار مقرر وزیر اعظم کو گھر جانا ہوگا، اس سے کم پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ ان الفاظ کا اعادہ جمعیت علما اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل متحدہ اپوزیشن کے رہنما سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے علما مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے مرکزی چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی سجادہ نشین درگاہ عالیہ بھیج پیر جٹا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ملک بھر کے علما مشائخ کی نمائندہ تنظیم علما مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کی جانب سے جمعیت علما اسلام ف کے آزادی مارچ اور دھرنے کی حمایت اور بھرپور تعاون کا یقین دلانے پر سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نااہل حکمران بیرونی طاتوں کے آلہ کار ہیں جو نئے پاکستان کے نام پر نظریہ پاکستان اور اسلامی تشخص کو منظر نامے سے ہٹانے کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں۔ اسمبلی میں قانون سازی کے بجائے ایوان صدر کو آرڈینینس فیکٹری بنا دیا ہے اور آرڈینینسوں کے ذریعے سلیکٹڈ حکومت کو بچانے اور اداروں کو تباہ کرنے کی جانب گامزن ہے مگر وطن عزیز کے بائیس کروڑ عوام تبدیلی سرکار کے ناپاک عزائم سے آگاہ ہوگئے ہیں اور اب وہ انہیں گھر بھیج کر ہی دم لیں گے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے ملک بھر کی ایک سو اسی (180) سے زائد خانقاہوں اور علما کرام کی جانب سے علما ومشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے آزادی مارچ اور دھرنے کی بھرپور حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ دھرنے کی وجہ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے مگر وہ یہ بھول رہے ہیں کہ مودی کی کامیابی کے لیے جھوٹے اعظم نے دعا کی اور پھر امریکا جا کر کشمیر کا سودا کیا۔ آزادی مارچ نے تو مسئلہ کشمیر کے لیے بھر پور آواز اٹھائی ہے اور روزانہ مقررین اپنی تقاریر میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرتے ہیں۔ عاقبت نااندیش حکمرانوں نے ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ نااہل حکمران بھان متی کا کنبہ ہیں، جن کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ یہ سیاسی انتقام میں عقل وخرد سے بیگانہ ہوگئے ہیں اور کچن کیبنٹ صرف اور صرف اپنے مفادات کے لیے عمران نیازی کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں۔ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اور اداروں سے کبھی بھی تصادم کی راہ اختیار نہیں کی اور ہی کریں گے۔ رہبر کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں آزادی مارچ دھرنے کے مقاصد کے حصول تک بیٹھے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قائد جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آزادی مارچ اور دھرنے پر متحدہ اپوزیشن متحد ومتفق ہے۔ اختلافات کی باتیں کرنے والے کامیاب دھرنے اور آزادی مارچ پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کی اپنی پالیسیاں اور آئین ہے۔ ان کے رہنمائوں نے اس کے مطابق ہی لائحہ عمل طے کرنا ہوتا ہے۔