میرپور خاص، سانحہ تیزگام کے مزید چار شہدا کی تدفین کردی گئی

20

میرپور خاص (نمائندہ جسارت) سانحہ تیزگام کے مزید چار شہدا کی میتیوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کردیا گیا، میرپورخاص میں لائی جانے والی میتوں کی تعداد 36 ہوگئی ہے، 14 لاشوں کی اب شناخت ہونا باقی ہے۔ لیاقت پور میں تیز گام کے سانحے میں شہید ہونے والے مزید چار شہدا کی لاشوں کو شناخت کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کردیا گیا، منور علی اور محمد عمر کی نماز جنازہ سیٹلائٹ ٹائون، عبدالکریم کی نماز جنازہ مکرانی مسجد اور محمد شکیل کی نماز جنازہ مہاجر کالونی گرائونڈ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ اور تدفین میں ایم پی اے سید ذوالفقار علی شاہ، ڈپٹی کمشنر سید عطا اللہ شاہ، اسسٹنٹ کمشنر غلام حسین کانیو، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے اراکین و نگران انچارج ڈسٹرکٹ کمیٹی ڈاکٹر ظفر کمالی، انچارج سندھ تنظیمی کمیٹی سلیم رزاق، رکن سندھ تنظیمی کمیٹی شبیر انصاری، اراکین نگران ڈسٹرکٹ کمیٹی محمد علی شاہ، عبدالاحد، چیئرمین بلدیہ انجینئر کامران شیخ، وائس چیئرمین فرید احمد خان، پیر حسن شاہ جیلانی، پیر عزت شاہ جیلانی، کرن ہری رام، سید شجاع محمد شاہ، چیئرمین بلدیہ کامران شیخ، انجمن اخبار فروش یونین کے صدر محمد ایوب مہر، جماعت اسلامی میرپور خاص کے لالا نور محمد، عاصم شیخ، حاجی نورالٰہی مغل، تاجروں، صحافیوں، وکلا، سیاسی ومذہبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ ان کے عزیز و اقارب اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شہدا کو مقامی قبرستانوں میں سپرد خاک کیا گیا۔ سانحہ تیز گام میں 14 شہیدوں کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے وفد نے لواحقین شہدا سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پورا شہر آپ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہدا کے ورثا کی بھرپور مالی مدد کی جائے۔