فلاحی رقوم کا سیاسی استعمال ،ٹرمپ کو 20 لاکھ ڈالر جرمانہ

41

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریک کی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 20لاکھ ڈالرکا جرمانہ کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق نیویارک میں مین ہیٹن کی عدالت نے یہ سزا ’’ڈونلڈ جے ٹرمپ فاؤنڈیشن‘‘ نامی امدادی تنظیم کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال پر سنائی۔ اس تنظیم سے منسلک رقوم 2016ء میں صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران استعمال کی گئی تھیں۔ صدر ٹرمپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جرمانے کے یہ رقم 8 مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو ادا کریں۔ امریکی صدر کے خلاف یہ مقدمہ گزشتہ برس نیو یارک میں اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے عائد کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایک موقع پر تفتیش کے دوران اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم سے منسلک عملے کو ایک تقریب کے انعقاد کے سلسلے میں فاؤنڈیشن کے ملازمین سے رابطہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ ایک اور واقعے میں امریکی صدر کی ایک 6 فٹ اونچی تصویر کے لیے رقم کی ادائیگی بھی فاؤنڈیشن ہی کی طرف سے کی گئی۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کے فنڈز سے مختلف یادگاری اشیا بھی خریدی گئیں۔ امریکی قوانین کے مطابق امدادی تنظیمیں سیاسی جماعتوں کی مہمات کا حصہ نہیں بن سکیں۔ امریکی صدر نے جمعرات کی شب جاری کردہ اپنے ایک بیان میں اشارہ دیا کہ نہ تو انہوں نے کوئی غلطی کی ہے اور نہ ہی وہ اپنے کیے پر معافی کے طلب گار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میں ایسا واحد شخص ہوں، شاید تاریخ میں ایسا واحد شخص، جو اتنی بڑی رقوم بطور امداد دے سکتا ہے اور پھر بھی سیاسی فائدہ اٹھانے والوں کے حملوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف مقدمے کا حصہ بننے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے وکلا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں کلنٹن فاؤنڈیشن کی تفتیش کرنی چاہیے تھی۔ ٹرمپ نے ان الزامات کو اپنے اوپر نیویارک میں سیاسی حملہ بھی قرار دیا اور ساتھ ہی نیویارک کے اٹارنی جنرل پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی مقصد کے لیے اس معاملے میں جان بوجھ کر ان کی کردار کشی کررہی ہیں۔ عدالتی فیصلے کے تحت اب ڈونلڈ جے ٹرمپ فاؤنڈیشن ختم کر دی جائے گی، جب کہ اٹارنی جنرل کے دفتر اور ٹرمپ کے وکلا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت جرمانے کی رقم اور فاؤنڈیشن کے بقیہ 17 لاکھ ڈالر 8 غیر سرکاری تنظیموں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔ اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ امدادی رقوم کے تحفظ اور ان کا غلط استعمال کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی ہے۔ جیمز نے مزید کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، نہ کوئی کاروباری فرد، نہ کسی سرکاری دفتر کے لیے کوئی امیدوار اور نہ ہی امریکی صدر۔