پولیو کیسز چھپانے سے متعلق برطانوی اخبار کی رپورٹ مسترد

30

اسلام آباد (صباح نیوز) برطانوی اخبار گارڈیئن کی ایک تحقیقاتی خبر میں پاکستان کی حکومت پر پولیو کے نئے کیسز کو چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے، لیکن پاکستانی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم کے پولیو پروگرام کے سابق فوکل پرسن بابر بن عطا نے اپنی نا اہلی اور خامیوں کو چھپانے کے لیے دانستہ طور پر رواں سال پولیو کے نئے کیسز کو پاکستانی حکومت اور پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں سے چھپایا تھا۔ تاہم برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت، ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ہماری حکومت کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ ہماری طرف سے دانستہ اس معاملے کو چھپانے کی یا اس کی اہمیت کو کم کرنے کی یا غلط رپورٹ دینے کی قطعا کوشش نہیں کی گئی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس پاکستان میں پولیو کے 77 کیسز ریکارڈ کیے گئے جن کی زیادہ تر تعداد صوبہ خیبر پختونخوا سے بتائی جا رہی ہے جن میں بنوں اور لکی مروت شامل ہیں۔ جبکہ گلگت بلتستان سے دیامیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئے کیس کی تشخیص حال ہی میں اسلام آباد سے ہوئی ہے۔ اس سے قبل پاکستانی حکومت کئی مرتبہ اس خدشے کا اظہار کر چکی ہے کہ ملک میں جاری پولیو مہم کو منفی پروپیگنڈے سے شدید نقصان پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے اجتناب کرتے ہیں اور پولیو ٹیم کو اپنے گھر نہیں آنے دیتے۔