اقوام متحدہ کی خاموشی نے لاکھوں کشمیریوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی‘ سردارمسعود

67
کراچی: صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان مقامی ہوٹل میں تقریب سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان مقامی ہوٹل میں تقریب سے خطاب کررہے ہیں

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں بھارت کے ساتھ جنگ ٹل نہیں سکتی ،ہمیں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار رہنا چاہیے،تنازع کشمیر پر سلامتی کونسل کی خاموشی نے لاکھوں زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں، عالمی برادری کو جاگنا ہوگا ، بھارت دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے، 96روز سے مقبوضہ وادی کے شہری قیدو بند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، بھارت دنیا کے سامنے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معمول کے مطابق ثابت کرنے میں ناکام کوششیں کررہا ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کے روز کراچی کونسل آف فارن ریلیشنز کے ڈائیلاگ کے تحت مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے سینئر وائس چیئرمین کے سی ایف آر ایمبیسیڈر مصطفی کمال قاضی اور جنرل سیکرٹری کموڈور ریٹائرڈ سدید ملک نے بھی خطاب کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا ہے کہ جدوجہد آزادی کشمیر نئے دور میں داخل ہوچکی،مایوسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،مسئلہ کشمیر صرف پاکستان اور بھارت سے حل نہیں ہوگا، عالمی برادری کو مداخلت کرنا ہوگی۔ بھارت کی یہ دھوکا دہی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، بھارتی فوج کی غنڈا گردی عروج پر ہے، بھارت دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ کشمیری نوجوانوں میں آزادی کا جذبہ بڑھارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35-A کشمیریوں کے حق کی نمائندگی کرتا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے نقشے کو خود سے تبدیل کیا ہے جوکہ اقوام متحدہ کے قانون کے خلاف ورزی کی ہے۔بھارت پاکستان کو جنگ کی طرف لے جاناچاہتا ہے اور وہ پاکستان پر حملہ کرنے کی سوچ رہا ہے۔ تنازع کشمیر ایسا مسئلہ ہے جس سے 2 ایٹمی قوتوں میں جنگ چھڑسکتی ہے، دونوں ملکوں میں جنگ چھڑی تو کروڑوں افراد متاثر ہوں گے، ہم چاہیں یا نہ چاہیں مگر بھارت کے ساتھ جنگ ہوگی اور ہمیں ذہنی طور پر اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔پاک بھارت جنگ کی صورت میں لاکھوں افراد کی جانوں کا ضیاع ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے شکر گزار ہیں کہ انہوںنے کشمیر کے حق کے لئے آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، ملائیشیا، ترکی اور ایران نے کھل کر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی ہے، مغربی دنیا کے بھارت کے ساتھ معاشی مفادات وابستہ ہیں۔