حکومت و حزب اختلاف مذاکرات سے مسائل حل کریں‘ علما کی اپیل

23

لاہور (نمائندہ جسارت) ملک بھر کے علما و مشائخ حکومت اور حزب اختلاف سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کرتے ہیں، پاک فوج کے خلاف مہم چلانے والوں کا قوم خود محاسبہ کرے گی ، دھرنے مسائل کا حل نہیں، اسپیکر قومی اسمبلی کی عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے رولنگ عالم اسلام کی ترجمانی ہے۔ ان خیالات کااظہار چیئرمین پاکستان علما کونسل و صدر وفاق المدارس حافظ طاہر اشرفی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پردیگرجید علما و مشائخ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس و مساجد عقیدہ ختم نبوت کے مسئلے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، مدارس و مساجد پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا تصور بھی حرام ہے ، جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو تا اس وقت تک اسرائیل سے رابطہ بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کے دھرنے کی بھی مخالفت کی تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان غصے کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ حکومت اور حزب اختلاف غیر اخلاقی زبان ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات میں فوج خود نہیں آتی ، حکومتیں بلاتی ہیں، فوج پر دھاندلی کا الزام لگانے والے بتائیں کہ حزب اختلاف کے کامیاب امیدواروں کو بھی فوج نے کامیاب کرایا ہے؟۔انہوں نے کہا کہ قادیانی ریاست کی باتیں کرنے والے مسلمانوں کے جذبات سے واقف نہیں ہیں ، عقیدہ ختم نبوت کے خلاف قانون سازی کرنے والے سب اسلام آباد کنٹینر پر کھڑے ہیں، اس پر تو پہلے قوم سے معذرت کر لیں ، مدارس و مساجد کو بلا وجہ سیاست میں ملوث نہ کریں ، علما کونسل مدارس و مساجد کی محافظ ہے۔مولانا فضل الرحمن مذہبی سیاسی لیڈر ہیں ، اسلام اور ملک کے مفاد میں ان کے پاس جانے کو تیار ہیں۔