صنعتیں آگ سے بچائو کیلئے خود انتظام کریں ناصر شاہ

47
صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نویں فائر سیفٹی کانفرنس اور ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں
صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نویں فائر سیفٹی کانفرنس اور ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) حکومت سندھ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر فائٹنگ سسٹم کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتی اداروں اور کمرشل اداروں کساتھ مل کر ا ن کااپنا فائر سسٹم بنانے کے لیے بھی تیار ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں صنعتیں خود اپنا تحفظ یقینی بنا سکیں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے گذشتہ روز نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ اور فائر پروٹیکشن ایسو سی ایشن کے تحت منعقد نویں فائر سیفٹی اینڈ سیکورٹی کنوینشن اور ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق ایڈمنسٹرر کراچی فہیم الزماں خان ، سابق ڈپٹی فائر افسر کے ایم سی نعیم یوسف، ممبر سندھ اسمبلی پی ٹی آئی ڈاکٹر عمران علی شاہ، صدر ایف پی اے پی عمران تاج، صدر این ایف ای ایچ محمد نعیم قریشی، نائب صدر این ایف ای ایچ انجینئر ندیم اشرف، ڈپٹی سیکرٹری ایف پی اے پی وجاحت، چیئرمین آباد محسن شیخانی، فائر چیف این آرایل شاہد رشید، کنڑی ہیڈ فائر ایند سیکورٹی اورینٹ انرجی واصف لئیق، ایم ڈی حسین حبیب فواد عتیق باری، سی ایچ ایس کے انیس عالم، سی ایس آر کلب پاکستان کے صدر انیس یونس، فائر ایکسپرٹ خالد ندیم، سیکورٹی ماہر کرنل (ر) رضوان احمد، سنیئر مینجر ایڈمن امن فائونڈیشن صباحت علی خان، سنیئر انکرپرسن مسعود رضا، سابق چیئرمین پی پی ایم اے ڈاکٹر قیصر وحید و دیگر نے بھی خطاب کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعتوں ، کمرشل اداروں اور بلند عمارتوں میں آگ سے بچائو کے بہترین اقدامات کیے جانے چاہیے کیونکہ حادثے کی صورت میں ان جگہوں پر بہت جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا شہر میں بلند عمارتوں کے اضافے کے بعد حکومت نے کے ایم سی کے لیے جدید اسنارکل خرید لی ہے اور جلد ہی مزید اسنارکل اور دیگر آلات بھی خریدے جائیں گے تاکہ کے ایم سی کے فائر ڈیپارٹمنٹ کو عالمی معیار کے مطابق کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ حکومت شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور شہر میں پانی، سڑکوں کی مرمت اور دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے ہو رہا ہے۔اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے سابق ایڈمنسٹرر کراچی فہیم الزماں خان نے کہا کہ پاکستان بنے کے بعد سے اب تک شہر کی آبادی میں 60فیصد اضافہ ہو چکا ہے مگر آبادی کے لحاظ شہر میں کوئی کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی شہر میں آگ پر قابو پانے کے لیے کے ایم سی کو جدید تقاضوں پر بنایا گیا۔انہوں نے شہر میں اداروں نے بلدیہ فیکٹری کی آگ سے کچھ سبق حاصل نہیں کیا۔ اسی لیے آج تک نہ صنعتوں میں آگ پر قابو پانے کے لیے کو ئی اقدامات نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ صنعتوں کا آگ کے حوالے سے اقدامات نہ کرنا حکومت کی نا کامی ہے۔اس موقع پر سابق فائر چیف کے ایم سی نعیم یوسف نے کہا کہ ملک میں گذشتہ دنوں ٹرین میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہو ا اس واقعے سے ہمارے ریلوے کے نظام کی بربادی ظاہر کردی کہ ریلوے انتظامیہ آگ کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں اور اس سے مستقبل میں کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔انہوں نے کہا ٹرینوں میں فائر کے جدید آلات موجود ہونے چاہئیں اور ریلوے اسٹاف کو بھی اسے ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ملک میں بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر اپنا فائر اسٹیشن ہونا چاہیے تاکہ ہنگامی حالات میں اس کی مدد سے قابو پایا جا سکے۔ممبر سندھ اسمبلی پی ٹی آئی ڈاکٹر عمران علی شاہ نے کہا اسپتالوں میں مریضوں کے لیے ہنگامی صورتحال کے دوران سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ایف پی اے پی کے صدر عمران تاج نے کہا کہ شہر میں آگ سے بچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کر نا چاہیے کیونکہ اب دنیا بھر میں اسی طرح آگ کے حادثات سے نمٹا جا رہا ہے۔صدر این ایف ای ایچ محمد نعیم قریشی نے کہا کہ این ایف ای ایچ صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر شہر میں صنعتوں، بلند عمارتوں اور دیگر جگہوں کو آگ سے بچائو کے اقدامات کرنے کے لیے بھرپور ساتھ دے گی۔