کے پی ٹی پر پیٹ کوک کی درآمد اور ہینڈلنگ امور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

25

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سٹیزنز فار انوائرمنٹ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ پر یکم نومبر کو 48,680 ٹن پیٹ کوک سے لدے اولمپس نامی جہاز کی لنگر اندازی پر سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سی پی اے) کو قانونی نوٹس دیا ہے جس میں محکمہ سے پیٹ کوک کی درآمد اور ہینڈلنگ امور کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جس سے انسانی صحت اور ماحول کو خطرہ ہے۔پیٹرولیم کوک جسے پیٹ کاک بھی کہا جاتا ہے، آئل ریفائننگ کی ضمنی پیداوار ہے جو ٹھوس کاربن مواد ہے اور کوئلے کی مانند ہے، یہ سولڈ فیول تھرمل کول کی طرح ہے۔ پیٹ کاک ماحول کے لیے اُتنا ہی خطرناک ہے جتنا کوئی دوسرا ماحول کو آلودہ کرنے والا مواد ہوسکتا ہے۔ پیٹرولیم کوک سے خارج ہونے والے گرد کے ذرات سانس کے ذریعے شہریوں کے حلق میں داخل ہوتے ہیں جن سے وہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ماحول کو سنگین خطرات لاحق ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے جون 2018ء میں احکامات میں کوئلے کی پورٹ پر ہینڈلنگ اور ذخیرے پر پابندی عائد کی تھی اور اسے پورٹ قاسم منتقل کردیا گیا تھا۔ پیٹ کوک کی کراچی پورٹ ٹرسٹ پر ہینڈلنگ شہریوں کے لیے خطرناک اورآلودگی کا باعث ہے۔ اس کی آمد سندھ انوائرنمنٹ پراٹیکشن ایکٹ 2014ء سیکشن 12 کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت ایسے مواد کی اتھارٹی سے پہلے منظوری ضروری ہے۔ اسی طرح یہ سیکشن 14 اور 20 کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے تحت ایسے مواد کی ٹرانسپورٹیشن، آمد اور ہینڈلنگ نہیں کی جاسکتی ہے۔ کے پی ٹی، کے ڈی اے اسکیم فائیو، بلاک ون، شیریں جناح کالونی اور دیگر رہائشی آبادیوں کے قریب ہے جس سے شہریوں پر زہریلے مواد کے اثرات پڑتے ہیں ۔اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کی آمد، ہینڈلنگ اور اسٹوریج و ٹرانسپورٹیشن ماحول کو شدید متاثر کرتی ہے جو پورے شہر میں آلودگی کا بڑا سبب ہے جن سے لوگوں کو متعدد بیماریاں جیسے دمہ، کھانسی، الرجی، کارڈی ویسکیولر امراض کینسر تک لاحق ہوسکتے ہیں۔