ایشیائی بینکوں کی ترقی ڈیجیٹل بینکنگ کے بغیر ممکن نہیں، اوریکل رپورٹ

30

کراچی(اسٹاف رپورٹر)اوریکل کی حالیہ رپورٹ میں ایشیائی بینکنگ کو متاثر کرنے والے عوامل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں کسٹمر تجربات سے آگے کی سوچ اپنانی ہوگی اور ترقی کے لیے موجودہ رسک اور ریگولیشن کے مسائل کو کامیابی سے حل کرنا ہوگا۔ ڈیٹا پر مبنی اسٹریٹجیز سے اپنی ترقی، فروغ اور منافع بڑھانے میں مدد لینی ہوگی۔اوریکل کی رپورٹ ’’بی یونڈ ڈیجیٹل ۔ ڈیٹا ڈریون اسٹریٹجیز، ٹو گرو، اسکیل اینڈ پرافٹ‘‘ میں واضح کیا گیا ہے کہ روایتی بینکنگ ماڈل دوبارہ ڈیزائن کرنے کے ساتھ ڈیٹا سے مربوط نظام کے ذریعے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی طرح بینکوں کو اپنی رسائی ان علاقوں میں بھی فراہم کرنی ہوگی جہاں بینکنگ خدمات موجود نہیں ہیں۔ بینکنگ سسٹم میں مالی جرائم کی روک تھام کے لیے اشتراک عمل بڑھانا ہوگا۔ اسی طرح چھوٹے اور درمیانے کاروباریت پر توجہ بڑھانی ہوگی۔روایتی بینکنگ کو فنانشل مارکیٹ میں ٹیکنالوجی رکھنے والے بڑے اداروں کی بڑے پیمانے پر آمد اور خدمات فراہم کرنے سے مقابلے کا سامنا ہے،اسی طرح بینکوں کے متبادل ادارے اور نئی بینکنگ ریگولیشنز بھی روایتی بینکوں کے لیے تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں۔ اسی طرح ورچوئل بینکنگ لائسنس کا اجراء نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے ایپیک ریجن، سنگاپور، ہانگ کانگ اور ملائیشیا تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔