قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

102

دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سوجھتی۔ بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے، (ایک نہیں) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور بڑے بڑے محل۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ’’اْس گھڑی‘‘ کو جھٹلا چکے ہیں اور جو اْس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ وہ جب دور سے اِن کو دیکھے گی تو یہ اْس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے۔ اور جب یہ دست و پا بستہ اْس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے۔ (سورۃ الفرقان:9تا13)

ہانی مولی عثمان کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جب کسی قبرستان پر ٹھیرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ’’آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے‘‘۔ عثمانؓ نے مزید کہا کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ’’گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا‘‘۔ (سنن ترمذی)